تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سائنس و ٹیکنالوجی

تصویر اصلی ہے یا AI سے بنی؟ گوگل نے حقیقت جاننے کا نیا طریقہ سب کے لیے کھول دیا

گوگل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے اپنے نظام SynthID Detector تک دنیا بھر کے صارفین کی رسائی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ صارفین تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو فائلوں میں مخصوص ڈیجیٹل نشانات تلاش کرسکیں گے۔

کیلیفورنیا: انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان گوگل نے ڈیجیٹل مواد کی جانچ کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔

گوگل کے اعلان کے مطابق SynthID Detector اب عالمی
سطح پر انگریزی زبان میں صارفین کے لیے دستیاب کیا جارہا ہے۔ اس کے ذریعے یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ کسی تصویر، ویڈیو یا آڈیو فائل میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی نشاندہی کرنے والا مخصوص ڈیجیٹل واٹرمارک موجود ہے یا نہیں۔

اوپن اے آئی، این ویڈیا اور دیگر کمپنیاں بھی شراکت دار

گوگل نے اس نظام کی رسائی بڑھانے کے لیے اوپن اے آئی، این ویڈیا اور جنوبی کوریا کی کمپنی کاکاؤ کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایپل کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ اس تع
اون کا مقصد مختلف مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت کو زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔

SynthID Detector کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین https://synthid.com پر جاکر تصویر، ویڈیو یا آڈیو فائل اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد نظام فائل کا تجزیہ کرکے جانچ کرتا ہے کہ آیا اس میں گوگل یا اس کے شراکت داروں کا قابلِ شناخت SynthID واٹرمارک موجود ہے۔ یہ واٹرمارک عام طور پر انسانی آنکھ یا کان سے محسوس نہیں ہوتا بلکہ خصوصی ٹیکنالوجی سے شناخت کیا جاتا ہے۔

کیا ہر مصنوعی تصویر یا ویڈیو پکڑی جاسکے گی؟

SynthID Detector ہر مصنوعی تصویر، ویڈیو یا آواز کی شناخت کی ضمانت نہیں دیتا۔ یہ بنیادی طور پر ایسے مواد کی شناخت کے لیے بنایا گیا ہے جس میں معاون ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص ڈیجیٹل واٹرمارک شامل کیا گیا ہو۔ اگر کسی فائل میں واٹرمارک نہ ملے تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وہ حقیقی ہے۔ ممکن ہے وہ کسی ایسے نظام سے تیار ہوئی ہو جو یہ ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتا۔ فائل میں تبدیلی یا بعض تکنیکی عوامل بھی شناخت کے
نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

جعلی خبریں اور ڈیپ فیک ویڈیوز روکنے میں مدد

سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر، سیاست دانوں کی جعلی ویڈیوز اور معروف شخصیات کی نقل میں بنائی گئی آوازیں غلط معلومات پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ SynthID Detector جیسے آلات صحافیوں، خبر رساں اداروں اور عام صارفین کو مشکوک مواد کی ابتدائی جانچ میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم کسی بھی خبر کی تصدیق کے لیے اصل ماخذ اور دیگر شواہد کی جانچ ضروری ہے۔

پاکستانی صارفین کے لیے اہمیت

پاکستان میں بھی واٹس ایپ، فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر ہوتی ہیں۔ یہ سہولت نیوز رومز اور عام صارفین کے لیے ایک اضافی تصدیقی ذریعہ بن سکتی ہے، خصوصاً انتخابات، سیاسی بیانات، جنگی صورتحال اور ہنگامی واقعات سے متعلق وائرل مواد کی جانچ میں۔

گوگل کے مطابق اعداد و شمار

گوگل کے 7 اکتوبر 2026 کے اعلان میں 180 ارب سے زیادہ واٹرمارک شدہ تصاویر اور ویڈیوز اور واٹرمارک شدہ آڈیو کے 2 لاکھ 40 ہزار سال سے زیادہ
مجموعی دورانیے کا ذکر کیا گیا۔ گوگل کے مطابق اس کی مختلف تصدیقی سہولتوں پر روزانہ دس لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔

گوگل کا یہ اقدام مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شفاف شناخت کی جانب پیش رفت ہے، تاہم ڈیجیٹل واٹرمارک کی عدم موجودگی کو کسی تصویر یا ویڈیو کے حقیقی ہونے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔