پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ اور ہائبرڈ سروسز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے 30 ستمبر 2026 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مختلف کمپنیوں کے انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتیں نمایاں سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ بعض ماہانہ پیکیجز کی قیمت 2 ہزار 800 روپے تک ہے۔
15 روزہ انٹرنیٹ پیکیجز بھی صارفین کی جیب پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ ٹیلی نار کا 15 Day Extreme پیکیج 130 جی بی ڈیٹا فراہم کرتا ہے اور اس کی قیمت ایک ہزار 43 روپے ہے۔ جاز کا 15 Day AIO پیکیج 10 جی بی ڈیٹا کے ساتھ 869 روپے میں دستیاب ہے۔ ٹیلی نار کا 30 جی بی والا 15 روزہ پیکیج بھی 869 روپے میں دیا جا رہا ہے۔
ہفتہ وار پیکیجز میں بھی مختلف آپشنز موجود ہیں۔ جاز کا Super Woman Bundle صارفین کو 12 جی بی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس پیکیج کی قیمت 234 روپے ہے۔ اسی طرح Weekly Super Max پیکیج میں 30 جی بی ڈیٹا شامل ہے۔ اس کی قیمت 608 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ماہانہ پیکیجز میں جاز کا 6 جی بی Monthly Bachat Offer بھی شامل ہے۔ اس کی قیمت 478 روپے ہے۔ 20 جی بی YouTube & Social Plus پیکیج 1043 روپے میں دستیاب ہے۔ جبکہ 30 جی بی Monthly Video & Social Max پیکیج کی قیمت 1304 روپے ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کم قیمت والے کئی پیکیجز میں مکمل انٹرنیٹ کے بجائے مخصوص ایپس یا سوشل میڈیا سروسز کے لیے محدود ڈیٹا دیا جاتا ہے۔ ان میں واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی سروسز شامل ہیں۔ ایسے پیکیجز ان صارفین کے لیے کافی نہیں ہوتے جنہیں تمام ویب سائٹس اور آن لائن سروسز تک مکمل رسائی درکار ہوتی ہے۔
تعلیم، کاروبار اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کے لیے مسلسل اور غیر محدود انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کو اس صورت حال میں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔ صرف مخصوص ایپس کے لیے مختص ڈیٹا ان صارفین کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔
ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی پیکیج کو ایکٹیویٹ کرنے سے پہلے اس کی تازہ تفصیلات ضرور چیک کریں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ کمپنی کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا ہیلپ لائن سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔






