تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سائنس و ٹیکنالوجی

چیٹ جی پی ٹی میں نیا انٹرفیس متعارف کرانے کی تیاری، معلومات کے ساتھ انٹرایکٹو گرافکس بھی دکھائے جاسکیں گے

مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایسے نئے انٹرفیس کا ذکر سامنے آیا ہے جس کے ذریعے صارفین کو معلومات صرف تحریری جواب کی صورت میں نہیں بلکہ مختلف بصری اور انٹرایکٹو انداز میں بھی فراہم کی جاسکیں گی۔

فراہم کردہ خبر کے مطابق نئے تجربے میں متن کے ساتھ تصاویر، انٹرایکٹو گرافکس، اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کیے جانے والے کیلکولیٹرز، چارٹس اور قابلِ ترمیم بصری عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ اس کا مقصد پیچیدہ معلومات کو زیادہ واضح اور آسان انداز میں پیش کرنا بتایا گیا ہے۔

مثال کے طور پر اعداد و شمار پر مبنی سوالات کے جواب میں صارفین کو صرف تحریری وضاحت دینے کے بجائے چارٹ یا گراف کی شکل میں معلومات دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح بعض حسابی مسائل کے لیے ایسے کیلکولیٹرز دستیاب ہوسکتے ہیں جن میں صارف اپنی ضروریات کے مطابق اعداد تبدیل کرکے نتیجہ دیکھ سکے۔

خبر میں یہ سہولت بھی بیان کی گئی ہے کہ صارفین بصری مواد کی مقدار کو محدود کرنے کا اختیار حاصل کرسکتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند کے مطابق سادہ تحریری جواب یا زیادہ بصری انداز میں معلومات حاصل کرسکیں۔

فراہم کردہ مواد میں اوپن اے آئی کے پروڈکٹ مینیجر اَروش سیلوان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جبکہ اس فیچر کی دستیابی مفت اور ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے بتائی گئی ہے۔ تاہم ان تفصیلات، دستیابی اور اجرا کے دائرے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے؛ اس لیے فی الحال اسے حتمی طور پر تمام صارفین کے لیے جاری شدہ فیچر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اگر اس نوعیت کا انٹرفیس متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے تعلیم، تحقیق، ڈیٹا کے تجزیے اور روزمرہ کے حسابی کاموں میں مدد مل سکتی ہے۔ صارفین کے لیے معلومات کو اپنی ضرورت کے مطابق دیکھنے اور سمجھنے کے نئے طریقے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔