اسمارٹ فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ رابطے سے لے کر خریداری، سفر اور تفریح تک تقریباً ہر کام کے لیے موبائل استعمال ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ تاہم، ایک امریکی فنکارہ نے اس خیال کو اپنے تجربے سے چیلنج کیا ہے۔
نیویارک میں رہنے والی فنکارہ اور سماجی کارکن آگسٹس لیم نے 2022 میں اسمارٹ فون استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ فن تخلیق کرنے سے زیادہ وقت اسکرین دیکھنے میں گزار رہی ہیں۔ انہوں نے اسمارٹ فون سے دوری اختیار کی تو ابتدا میں کچھ مشکلات پیش آئیں، لیکن بعد میں انہیں اس کے کئی فائدے محسوس ہوئے۔
آگسٹس لیم نے اپنے تجربات پر کتاب بھی لکھی ہے۔ کتاب کا نام ’یو ڈونٹ نیڈ اے اسمارٹ فون: اے پریکٹیکل گائیڈ ٹو ڈاؤن گریڈنگ یور فون اینڈ اپ گریڈنگ یور لائف‘ ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اسمارٹ فون کے بغیر زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے اور اس دوران انہیں کن تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تعلقات میں کیسے بہتری آئی؟
لیم کے مطابق اسمارٹ فون چھوڑنے سے پہلے انہیں خدشہ تھا کہ دوستوں سے رابطہ کم ہوجائے گا۔ انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ آن لائن تقریبات اور نئے لوگوں سے ملنے کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ لیکن ان کے ساتھ اس کے برعکس ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون سے دوری کے بعد دوستوں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ جب لوگ ملاقات کے دوران فون استعمال نہیں کرتے تو ان کی توجہ ایک دوسرے پر رہتی ہے۔ اس سے گفتگو زیادہ بہتر ہوتی ہے اور ملاقات بھی زیادہ بامعنی محسوس ہوتی ہے۔
لیم کے مطابق پہلے دوست سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کے بارے میں معلومات شیئر کردیتے تھے۔ فون چھوڑنے کے بعد انہیں دوستوں سے براہِ راست رابطہ کرنا پڑا۔ اس طرح ذاتی گفتگو کے مواقع بڑھ گئے۔
نئے لوگوں سے ملنے کا انداز بھی بدل گیا۔ پہلے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو فالو کرنا عام بات تھی۔ اب وہ براہِ راست دوبارہ ملنے کا وقت طے کرنے یا کسی پروگرام میں مدعو کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس طرح آن لائن رابطے کے بجائے حقیقی ملاقاتوں کو زیادہ اہمیت ملتی ہے۔
فارغ وقت میں اضافہ
لیم کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون چھوڑنے کے بعد انہیں روزانہ کئی گھنٹے اضافی ملنے لگے۔ فون پر کیا جانے والا ہر کام بظاہر چند منٹ لیتا ہے۔ لیکن پورے دن میں بار بار موبائل چیک کرنے سے یہی چند منٹ کئی گھنٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
کبھی کوئی پیغام دیکھنا، کبھی سوشل میڈیا کھولنا اور کبھی خبریں پڑھنا معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس دوران کتنا وقت گزر گیا۔
اسمارٹ فون کے بغیر لیم اب بعض کاموں کے لیے دوسرے طریقے اختیار کرتی ہیں۔ وہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ دفتر جاتی ہیں، ڈاک خانے کا رخ کرتی ہیں یا لائبریری سے مدد لیتی ہیں۔ بعض کاموں میں زیادہ وقت ضرور لگتا ہے، لیکن اس کے ساتھ گھر سے باہر نکلنے اور لوگوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب مصروف دن کے باوجود انہیں اپنے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے۔ انہیں ہر وقت کام یا موبائل کی مصروفیت کا دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔
کیا یادداشت بھی بہتر ہوسکتی ہے؟
لیم کے تجربے میں اسمارٹ فون پر زیادہ انحصار انسان کی کچھ ذہنی صلاحیتوں کو کم استعمال کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، لوگ راستے یاد رکھنے کے بجائے ہر بار موبائل کے نقشے پر انحصار کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب انسان خود راستہ یاد رکھنے یا کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ذہنی صلاحیتیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ اسمارٹ فون سے دور رہنے کے بعد انہیں اپنی یادداشت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہوا۔
تاہم، یہ بات ان کے ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسمارٹ فون چھوڑنے سے ہر شخص کی یادداشت لازماً بہتر ہوجائے گی۔
ذہنی سکون میں بھی فرق محسوس ہوا
لیم کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرتے وقت ان کی توجہ بار بار بٹ جاتی تھی۔ وہ کسی سے بات کر رہی ہوتیں تو بھی ذہن میں یہ خیال رہتا کہ فون کب دوبارہ چیک کرنا ہے۔
موبائل سے دوری کے بعد وہ موجودہ لمحے پر زیادہ توجہ دے پاتی ہیں۔ کسی سے گفتگو کرتے وقت ان کی توجہ اسی شخص پر رہتی ہے۔ کتاب پڑھتے، موسیقی سنتے یا چہل قدمی کرتے وقت بھی وہ بار بار فون کی طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون چھوڑنے کے ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ مسلسل فون استعمال کرنے کی عادت کی وجہ سے بے چینی محسوس ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب انسان فارغ ہو اور اسے فوری طور پر فون اٹھانے کی عادت ہو۔
تاہم، وقت کے ساتھ دوسرے طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔ دوستوں سے بات کرنا، کتاب پڑھنا، باہر چہل قدمی کرنا یا موسیقی سننا ایسے مشغلے ہیں جو موبائل کے بجائے فارغ وقت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اسمارٹ فون مکمل طور پر چھوڑنا ضروری ہے؟
لیم کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے لیے اسمارٹ فون مکمل طور پر چھوڑنا ضروری نہیں۔ بہت سے لوگوں کے کام اور روزمرہ ضروریات موبائل سے جڑی ہوئی ہیں۔ سفر، رابطے، کام اور صحت سے متعلق کئی سہولتیں اب اسمارٹ فون کے ذریعے ہی دستیاب ہیں۔
، جو لوگ موبائل پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں وہ کم از کم ایک ماہ کے لیے اس کے بغیر زندگی گزارنے کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ اس سے انہیں اندازہ ہوگا کہ اسمارٹ فون ان کی زندگی میں کتنا ضروری ہے اور کن کاموں کے لیے اس کا متبادل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
جن افراد کو ہر وقت اسمارٹ فون کی ضرورت رہتی ہے، وہ بنیادی رابطوں کے لیے عام موبائل فون استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح کال اور پیغام کی سہولت برقرار رہ سکتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور دیگر غیر ضروری سرگرمیوں سے دوری ممکن ہوسکتی ہے۔
لیم کے تجربے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر چھوڑنا ضروری نہیں۔ اصل ضرورت اس کے استعمال کو محدود کرنے کی ہے۔ موبائل چیک کرنے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے فون ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔
اس طرح اسمارٹ فون زندگی سے مکمل طور پر ختم کیے بغیر بھی اسکرین ٹائم کم کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی حقیقی ملاقاتوں، مطالعے، کام اور ذہنی سکون کے لیے زیادہ وقت نکالا جاسکتا ہے۔






