واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز) — 13 اکتوبر 2026 : مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ارب پتی کاروباری شخصیت بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی ترقی دنیا بھر میں ملازمتوں کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہے اور حکومتوں کو بعض پیشے انسانوں کے لیے مخصوص کرنے کے بارے میں فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام اتنی تیزی سے بہتر ہورہے ہیں کہ کمپنیاں انسانی ملازمین کی جگہ ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرنے کی طرف مائل ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو ابھی سے یہ طے کرنا ہوگا کہ کن شعبوں میں انسانوں کا کردار محفوظ رکھا جائے اور مصنوعی ذہانت یا روبوٹس کے استعمال پر کس طرح ٹیکس عائد کیا جائے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانی ملازمتیں محفوظ رکھنے کی تجویز
بل گیٹس کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ سوال زیادہ اہم ہوجائے گا کہ کون سے کام ایسے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت انجام دینے کے قابل ہونے کے باوجود انسانوں کے لیے مخصوص رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کا حوالہ دیا، جہاں انسانی رابطے، ہمدردی، اعتماد اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
بل گیٹس کا مؤقف مصنوعی ذہانت کو ان شعبوں سے مکمل طور پر نکالنے کے بجائے بعض انسانی ذمہ داریوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔
روبوٹس پر ٹیکس کیوں لگایا جائے؟
بل گیٹس نے کہا کہ موجودہ ٹیکس نظام میں انسانی ملازمین رکھنے والی کمپنیاں تنخواہوں پر مختلف ٹیکس ادا کرتی ہیں، جبکہ مشینوں کے ذریعے کام کروانے کے معاشی فوائد مختلف ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹس پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم ملازمتیں کھونے والے افراد کی دوبارہ تربیت اور سماجی تحفظ پر خرچ کی جاسکتی ہے۔
تاہم اس تجویز پر ابھی کوئی عالمی اتفاقِ رائے نہیں اور اس کے نفاذ سے متعلق متعدد معاشی اور قانونی سوالات موجود ہیں۔
خطرات سے خبردار کرنے والے بل گیٹس خود مصنوعی ذہانت پر ایک ارب ڈالر خرچ کریں گے
بل گیٹس کے انتباہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کی فلاحی تنظیم گیٹس فاؤنڈیشن مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے بڑی سرمایہ کاری بھی کررہی ہے۔
فاؤنڈیشن نے 14 ستمبر 2026 کو اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ دو برسوں میں کم از کم ایک ارب امریکی ڈالر مصنوعی ذہانت تک رسائی اور اس کے ذریعے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بہتری لانے پر خرچ کرے گی۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف امیر ممالک یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہ رہیں۔
یہاں ایک اہم فرق ہے: گیٹس فاؤنڈیشن کی سرمایہ کاری کا اعلان مصنوعی ذہانت کے سماجی استعمال سے متعلق ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع میں براہِ راست سرمایہ کاری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد عام لوگوں تک کیسے پہنچیں گے اور اس کے باعث ملازمتیں کھونے والوں کا تحفظ کون کرے گا؟
مائیکروسافٹ میں ہزاروں ملازمین کی چھانٹی
دوسری جانب مائیکروسافٹ، جس کے شریک بانی بل گیٹس ہیں، گزشتہ دو برسوں میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کرچکی ہے۔
2025 کے دوران کمپنی نے تقریباً 15 ہزار ملازمتیں ختم کیں، جبکہ جولائی 2026 میں مزید تقریباً 4 ہزار 800 ملازمین کی چھانٹی کا اعلان کیا گیا۔
کمپنی نے ان اقدامات کو کاروباری تنظیمِ نو اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش قرار دیا۔
مائیکروسافٹ کا مؤقف ہے کہ ملازمتوں میں کمی کو محض مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانوں کی براہِ راست تبدیلی سمجھنا درست نہیں، تاہم کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کررہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی صنعت میں ملازمین کی چھانٹی اور مصنوعی ذہانت پر بڑھتی سرمایہ کاری کے بیک وقت جاری رہنے نے اس بحث کو مزید اہم بنادیا ہے۔
امریکا میں لاکھوں ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ
امریکی سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس کی تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت کے وسیع پیمانے پر استعمال کی صورت میں امریکا کی تقریباً چھ سے سات فیصد افرادی قوت کو ملازمت سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
تاہم ادارے کی تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ایک ممکنہ منظرنامہ ہے، کوئی یقینی پیش گوئی نہیں کہ تمام متاثرہ افراد مستقل طور پر بے روزگار ہوجائیں گے۔
تحقیق کے مطابق کمپیوٹر پروگرامنگ، حسابات، دفتری معاونت، قانونی معاونت اور صارفین سے رابطے جیسے کام زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نئی ملازمتیں بھی پیدا کرسکتی ہے، لیکن اس تبدیلی کے دوران کارکنوں کی تربیت اور نئے مواقع تک رسائی اہم چیلنج ہوں گے۔
پاکستان میں کون سی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں؟
پاکستان میں بھی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے مختلف شعبوں میں تبدیلی آسکتی ہے۔
خاص طور پر ڈیٹا انٹری، کسٹمر سپورٹ، بنیادی تحریری کام، ترجمہ، سافٹ ویئر کی بعض ذمہ داریاں اور دفتری انتظامی امور میں خودکار نظاموں کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں کتنی ملازمتیں ختم ہوں گی، اس بارے میں فی الحال کوئی قابلِ اعتماد حتمی تخمینہ موجود نہیں۔
ماہرین کے مطابق ملازمین کے لیے نئی ٹیکنالوجی سیکھنا، تجزیاتی صلاحیتیں بہتر بنانا اور ایسے کاموں میں مہارت حاصل کرنا اہم ہوگا جن میں انسانی فیصلہ سازی اور ذمہ داری ضروری ہے۔
اصل سوال: مصنوعی ذہانت کی ترقی کا فائدہ کس کو ہوگا؟
بل گیٹس کے تازہ بیان نے ایک بنیادی معاشی سوال کو دوبارہ سامنے لایا ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور منافع میں اضافہ کرتی ہے، لیکن اسی دوران انسانی ملازمتیں کم ہوتی ہیں، تو اس معاشی فائدے کو معاشرے میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
حکومتوں کو ملازمین کی تربیت، ٹیکس نظام، تعلیمی پالیسی اور سماجی تحفظ کے بارے میں نئے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
بل گیٹس کا پیغام یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے یا مکمل طور پر آزاد چھوڑنے کے بجائے اس کے فوائد اور خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ انسانی روزگار اور معاشرتی ضروریات بھی محفوظ رہیں۔






