سائنس دانوں نے قدرتی طور پر جانوروں کی حرکت سے متاثر ہوکر ایک ایسا ننھا روبوٹ تیار کیا ہے جو مینڈک کی طرح چھلانگ لگا سکتا ہے اور اضافی پرزوں کی مدد سے پانی میں بھی حرکت کرسکتا ہے۔ صرف 96 گرام وزنی اس روبوٹ کی خاص بات اس کا ایسا میکانزم ہے جو کم وزن کے باوجود تیزی سے اچھلنے میں مدد دیتا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دشوار گزار مقامات کی تلاش اور نگرانی کے لیے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
روبوٹ میں توانائی جمع کرکے چھلانگ لگانے کا نظام
روایتی روبوٹس عموماً پہیوں، موٹروں یا جوڑوں والی ٹانگوں کے ذریعے حرکت کرتے ہیں، لیکن چھلانگ لگانے والے روبوٹ کے لیے توانائی کو مختصر وقت میں استعمال کرنے کا مؤثر نظام درکار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے لچک دار حصوں میں توانائی جمع کرکے اسے اچانک خارج کرنے کی تکنیک استعمال کی جاتی ہے، جس سے روبوٹ زمین سے اچھل سکتا ہے۔
یہ طریقہ قدرت میں پائے جانے والے ان حیاتیاتی نظاموں سے مشابہت رکھتا ہے جن میں جانور اپنے جسم کے مخصوص حصوں میں توانائی جمع کرکے تیز حرکت کرتے ہیں۔ اس اصول کو انجینئرنگ میں استعمال کرنے سے چھوٹی مشینوں کے لیے حرکت کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
خشکی کے بعد پانی میں حرکت کی صلاحیت
اس روبوٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اضافی پرزوں کی مدد سے اسے پانی میں حرکت کرنے کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح اس کی ساخت کو مختلف ماحول اور کاموں کے مطابق تبدیل کرنے کا امکان سامنے آتا ہے۔
تاہم خشکی اور پانی میں حرکت کرنے کی صلاحیت کو ایک جیسی کارکردگی نہیں سمجھنا چاہیے۔ دونوں ماحول میں حرکت کے لیے مختلف تقاضے ہوتے ہیں، اس لیے روبوٹ کی عملی افادیت کا انحصار اس کی ساخت، استعمال ہونے والے پرزوں اور تجرباتی نتائج پر ہوگا۔
زلزلے اور سیلاب میں ممکنہ استعمال
چھوٹے اور پھرتیلے روبوٹس مستقبل میں ایسے مقامات تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں جہاں انسانوں یا بڑی مشینوں کے لیے جانا مشکل ہو۔ زلزلے کے بعد ملبے میں تنگ راستے، منہدم عمارتوں کے حصے اور دیگر رکاوٹیں تلاش کے کام کو پیچیدہ بنادیتی ہیں، جبکہ سیلابی علاقوں میں پانی اور غیر ہموار سطحیں اضافی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
اگر اس روبوٹ میں کیمرے، حساس آلات اور خودکار سمت شناسی کا نظام شامل کیا جائے تو اسے محدود جگہوں کی جانچ اور ممکنہ طور پر امدادی ٹیموں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم فی الحال اسے زلزلوں یا سیلاب کے دوران عملی طور پر کامیاب امدادی روبوٹ قرار دینے کے لیے شواہد موجود ہونا ضروری ہیں۔
قدرت سے متاثر روبوٹکس کا بڑھتا شعبہ
جانوروں کی حرکت اور جسمانی ساخت سے متاثر ہوکر مشینیں بنانے کا شعبہ جدید روبوٹکس میں اہمیت اختیار کررہا ہے۔ سائنس دان پرندوں کی پرواز، مچھلیوں کی تیرنے کی صلاحیت اور کیڑوں کی حرکت کا مطالعہ کرکے ایسے ڈیزائن تیار کرتے ہیں جو مخصوص کاموں میں روایتی مشینوں سے مختلف فوائد فراہم کرسکیں۔
مینڈک کی طرح چھلانگ لگانے والا یہ روبوٹ بھی اسی تحقیقاتی رجحان کی مثال ہے۔ اس کی مستقبل کی افادیت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ محققین اس کی حرکت، توانائی کے استعمال، استحکام اور مختلف ماحول میں کارکردگی کو کس حد تک بہتر بنا پاتے ہیں۔






