تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سائنس و ٹیکنالوجی

نہ تار، نہ دھاتی اینٹینا! سائنس دانوں نے ہوا میں لیزر سے ریڈیو سگنل بھیج کر دنیا کو حیران کردیا

لیزر سے پلازما اینٹینا

واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز) — امریکی سائنس دانوں نے لیزر کی مدد سے ہوا میں پلازما پیدا کرکے ریڈیو سگنل منتقل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

اس ٹیکنالوجی میں روایتی دھاتی اینٹینا کے بجائے برقی چارج رکھنے والے ذرات پر مشتمل پلازما کو سگنل کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا۔ تجربے میں 30 میگاہرٹز کی فریکوئنسی پر ریڈیو لہریں منتقل کی گئیں، جس سے مستقبل میں مواصلاتی نظام کے لیے اینٹینا بنانے کے ایک نئے طریقے کی راہ کھل سکتی ہے۔

دھات کے بجائے ہوا میں تیار کیا گیا اینٹینا

امریکا کی نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا جس میں لیزر کی شعاع ہوا کے ذرات کو برقی طور پر چارج کرکے پلازما پیدا کرتی ہے۔ پلازما مادے کی چوتھی حالت کہلاتا ہے، جس میں آزاد الیکٹران اور آئن موجود ہوتے ہیں اور یہ برقی و برقی مقناطیسی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس طریقے میں اینٹینا کا فعال حصہ کسی مستقل دھاتی سلاخ کے بجائے لیزر سے پیدا ہونے والی پلازما کی باریک لکیر ہوتی ہے۔ اس کا مقصد ایسی ساخت بنانا ہے جس کی لمبائی اور سمت کو مخصوص ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جاسکے۔

30 میگاہرٹز پر ریڈیو سگنل کی ترسیل

محققین نے تجربے کے دوران پلازما کی لکیر کے قریب ایک خصوصی دھاتی حلقہ نصب کیا، جس کے ذریعے برقی توانائی پلازما تک پہنچائی گئی۔ اس کے بعد نظام سے 30 میگاہرٹز کی فریکوئنسی پر ریڈیو سگنل منتقل کیا گیا۔

فراہم کردہ تحقیق کے مطابق، وصول کنندہ مقام پر سگنل کی طاقت پلازما کے بغیر کی گئی پیمائش کے مقابلے میں ڈھائی گنا ریکارڈ ہوئی۔ یہ نتیجہ اس تصور کے عملی امکان کی حمایت کرتا ہے، تاہم اسے روایتی اینٹینا کے مقابلے میں ہر صورت بہتر کارکردگی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

سیٹلائٹس اور خلائی مواصلات میں ممکنہ استعمال

روایتی اینٹینا کی ساخت اور جسامت اس کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس پلازما پر مبنی نظام میں لیزر کی خصوصیات تبدیل کرکے فعال حصے کی شکل اور لمبائی پر اثر ڈالا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں یہ صلاحیت ایسے آلات کے لیے مفید ہوسکتی ہے جہاں وزن، جگہ اور اینٹینا کی ترتیب اہم ہوں۔

سیٹلائٹس، خلائی تحقیق، ریڈار اور خصوصی وائرلیس نظام اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمالات میں شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ نظام موجودہ موبائل ٹاورز یا روایتی اینٹینا کی جگہ لے سکتا ہے۔

سگنل وصول کرنا ابھی بڑا چیلنج

اس تحقیق کی ایک اہم حد یہ ہے کہ پلازما اینٹینا سے ریڈیو سگنل بھیجنے کا مظاہرہ کیا گیا ہے، لیکن اسی نظام کے ذریعے سگنل وصول کرنے کی صلاحیت ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔ طویل فاصلے پر ترسیل، مختلف فریکوئنسیوں، توانائی کی کھپت اور حقیقی ماحول میں کارکردگی کا جائزہ بھی ضروری ہوگا۔

یہ تجربہ فی الحال ایک ابتدائی سائنسی پیش رفت ہے، نہ کہ مکمل مواصلاتی نظام۔ اگر مزید تحقیق میں اس کی ترسیل اور وصولی کی صلاحیت مؤثر ثابت ہوتی ہے تو لیزر سے تیار ہونے والے اینٹینا مستقبل کی وائرلیس اور خلائی ٹیکنالوجی میں ایک نیا امکان بن سکتے ہیں۔