تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سائنس و ٹیکنالوجی

انسان بھی تھک جائیں مگر یہ نہ رکے!!! روبوٹ کتے نے ایک ہی بیٹری پر 42 کلومیٹر کی میراتھن مکمل کرکے تاریخ رقم کردی

رائبو ٹو روبوٹ کی میراتھن

جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے چار ٹانگوں والے روبوٹ کی مدد سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ رائبو ٹو نامی روبوٹ نے ایک ہی بیٹری پر 42.195 کلومیٹر طویل میراتھن مکمل کرکے یہ دکھایا کہ مؤثر ڈیزائن اور توانائی کے بہتر استعمال سے روبوٹس کو طویل فاصلے تک چلانا ممکن ہے۔ اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ دورانِ دوڑ نہ بیٹری تبدیل کی گئی اور نہ ہی روبوٹ کو دوبارہ چارج کرنے کے لیے روکا گیا۔

چار گھنٹے 19 منٹ میں میراتھن مکمل

رائبو ٹو کو جنوبی کوریا کے معروف تحقیقی ادارے کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAIST) کے محققین نے تیار کیا ہے۔ اس روبوٹ نے نومبر 2024 میں جنوبی کوریا کے شہر سانگجو میں منعقدہ میراتھن میں انسانی کھلاڑیوں کے ساتھ شرکت کی اور 4 گھنٹے، 19 منٹ اور 52 سیکنڈ میں مقررہ فاصلہ مکمل کیا۔

محققین کے مطابق یہ چار ٹانگوں والے روبوٹ کی جانب سے ایک ہی بیٹری پر مکمل میراتھن طے کرنے کی اہم مثال تھی۔ اس کامیابی سے متعلق تفصیلی تحقیق ستمبر 2026 میں سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی، جس نے روبوٹ کی توانائی بچانے کی صلاحیت کو مزید توجہ دلائی۔

بیٹری کی توانائی کیسے بچائی گئی؟

عام طور پر روبوٹس کو اپنا وزن سنبھالنے، ٹانگیں حرکت دینے اور ہر قدم کے لیے موٹروں کو مسلسل توانائی فراہم کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل فاصلے تک چلنے والے روبوٹس کے لیے بیٹری کی گنجائش اور بجلی کا مؤثر استعمال بنیادی چیلنج سمجھے جاتے ہیں۔

رائبو ٹو کی تیاری میں محققین نے صرف بڑی بیٹری پر انحصار کرنے کے بجائے اس کی ساخت اور حرکتی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔ ٹانگوں کا وزن کم کیا گیا، موٹروں میں توانائی کے ضیاع کو محدود کیا گیا اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے اور دوڑنے کے انداز کو بہتر بنایا گیا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ہر قدم کے لیے درکار توانائی کم کرنا تھا تاکہ روبوٹ ایک ہی چارج پر زیادہ فاصلہ طے کرسکے۔

توانائی کی کارکردگی میں اہم پیش رفت

تحقیق کے مطابق رائبو ٹو نے میراتھن کے دوران تقریباً 1,280 واٹ آور بجلی استعمال کی۔ توانائی کی نقل و حمل کی لاگت کے پیمانے پر اس کا نتیجہ 0.25 رہا، جبکہ مطالعے میں انسانی کارکردگی کا تقابلی معیار 0.37 تھا۔ اس مخصوص پیمانے پر کم قدر بہتر توانائی کی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔

محققین کے تخمینے کے مطابق میراتھن مکمل کرنے کے بعد بھی بیٹری میں اتنی توانائی باقی تھی کہ روبوٹ مزید تقریباً 25 کلومیٹر چل سکتا تھا۔ اس حساب سے اس کی ممکنہ مجموعی مسافت تقریباً 67 کلومیٹر بنتی ہے، تاہم یہ تخمینہ ہے، الگ سے مکمل کیے گئے سفر کا نتیجہ نہیں۔

مستقبل میں کہاں کام آئے گا؟

اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں ایسے روبوٹس تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو پہاڑی علاقوں، جنگلات، صنعتی تنصیبات اور قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات پر زیادہ دیر تک کام کرسکیں۔ جہاں بجلی کی فراہمی محدود ہو یا بیٹری بار بار چارج کرنا مشکل ہو، وہاں توانائی بچانے والا روبوٹ تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

تاہم رائبو ٹو کو مکمل خودمختار روبوٹ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ میراتھن کے تجربے میں انسانی نگرانی اور رہنمائی بھی شامل تھی۔ اس لیے اس کامیابی کو طویل فاصلے تک روبوٹ کی نقل و حرکت اور توانائی کی بچت میں پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔