اے آئی ادارے اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ماڈلز رواں سال کے اختتام تک اسمارٹ ٹی وی، اوون اور دیگر گھریلو آلات پر خود بخود حملہ کر کے ان میں خود کو پھیلانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
کلوڈ اے آئی چیٹ بوٹ بنانے والی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا کی معروف ترین امریکی ٹیک کمپنی اینتھروپک نے اپنی ایک چونکا دینے والی تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔
رپورٹ میں محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے حالیہ سائنسی تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سائز میں چھوٹے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز محض چند ہی مہینوں کے اندر اتنے زیادہ خود مختار اور طاقتور ہو جائیں گے کہ وہ کسی بھی انسان یا ہیکر کی مداخلت کے بغیر انٹرنیٹ سے منسلک گھریلو اسمارٹ آلات میں خود بخود اپنی کاپیاں بنا کر پھیلنے اور انفیکشن پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
سائبر سیکیورٹی اور اے آئی کے ماہرین نے اس قسم کے خطرناک عمل کو اے آئی ورمز کا نام دیا ہے۔ اینتھروپک کے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک بار یہ اے آئی ورمز گھریلو آلات میں داخل ہو کر پھیلنا شروع ہو گئے تو انہیں نیٹ ورک سے ختم یا ڈسکنیکٹ کرنا ناممکنات کے قریب ہو جائے گا کیونکہ انہیں بند یا کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ایک مرکزی پاور سوئچ یا سینٹرلائزڈ پوائنٹ موجود نہیں ہوگا۔
کمپنی نے بتایا کہ انہوں نے عملی ٹیسٹنگ کے دوران ایک نیٹ ورک سے جڑے محض 15 عام اور سستے اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز پر کامیابی کے ساتھ ایک اے آئی ماڈل کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلایا اور دوسرے ایڈوانسڈ ماڈلز نے نقلی اسمارٹ آلات میں بلکل انسانوں کی طرح ہیکنگ کر کے خود کو منقل کرنے کا عملی مظاہرہ کیا۔
تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ عام اسمارٹ گھریلو آلات اس قسم کے اے آئی وائرسز اور حملوں کے سامنے انتہائی غیر محفوظ اور سوفٹ ٹارگٹ ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ مینوفیکچرنگ کے وقت ان میں کوئی مظبوط سیکیورٹی پروٹوکول یا اینٹی وائرس کوڈنگ نہیں کی جاتی۔
معمولی پروسیسنگ پاور رکھنے والے گھریلو ڈیوائسز مثلاً اسمارٹ ریفریجریٹرز، الیکٹرک اوون، روبوٹک ویکیوم کلینرز، گھاس کاٹنے والی مشینیں اور سیکیورٹی کیمرے آپس میں ایک دوسرے کے پروسیسر کو استعمال کر کے ایک بڑا نیٹ ورک بنا سکتے ہیں، جو مشترکہ طور پر ایک اے آئی ماڈل کے پھیلاؤ کو سہارا دے سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ روایتی کمپیوٹر وائرس اور مالویئر مخصوص ہارڈ ویئر یا سوفٹ ویئر کوڈ پر حملہ کرتے ہیں، لیکن یہ خود کار اے آئی ماڈلز نابلد اور نئے سسٹمز کے ماحول کے مطابق خود کو موڑنے اور اپنی کامیابی کی صلاحیتوں کو اپنی اگلی کاپیوں میں منتقل کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں۔
اینتھروپک نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس قسم کے اے آئی انفیکشن اسمارٹ ہومز سے شروع ہو کر بعد میں ایک ڈیجیٹل وائرس کی طرح بڑے ڈیٹا سینٹرز، مواصلاتی نظام اور حتیٰ کہ سرکاری ویب سائٹس اور حساس انفراسٹرکچر تک کو منٹوں میں اپاہچ بنا سکتے ہیں، جس کے تدارک کے لیے دنیا کو فوری اور سخت قوانین وضع کرنا ہوں گے۔






