تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
سائنس و ٹیکنالوجی

چاند مسلسل سکڑ رہا ہے! سائنس دانوں نے کروڑوں سال میں اس کے حجم میں تبدیلی کے شواہد تلاش کرلیے

چاند کا سکڑنا

(جی ٹی وی نیوز اردو) — سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر موجود ہزاروں دراڑوں اور ارضیاتی ساختوں کا تجزیہ کرکے اس بات کے مزید شواہد پیش کیے ہیں کہ چاند وقت گزرنے کے ساتھ بتدریج سکڑ رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق چاند کے اندرونی حصے میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں اس کی سطح پر دباؤ پیدا ہوتا ہے، جس سے دراڑیں، فالٹ لائنز اور ابھری ہوئی ساختیں وجود میں آ سکتی ہیں۔

14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے دی پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں چاند کے سکڑنے کے عمل اور اس کی سطح پر موجود ارضیاتی ساختوں کا جائزہ لیا گیا۔ فراہم کردہ تحقیق کی تفصیلات کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

یہ تبدیلی انسانی پیمانے پر بہت معمولی دکھائی دیتی ہے، لیکن کروڑوں سال پر پھیلے ارضیاتی عمل کے تناظر میں چاند کی ساخت اور ارتقا کو سمجھنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

چاند کے اندر کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

چاند وقت کے ساتھ اندرونی حرارت کھوتا ہے۔ اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے سے اس کی بیرونی سطح پر دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں سطح کے بعض حصے ایک دوسرے کے مقابلے میں حرکت کرتے ہیں اور زمین کی ارضیاتی ساختوں سے ملتی جلتی دراڑیں اور ابھار بن سکتے ہیں۔

ان ساختوں میں لوبیٹ اسکارپس اور چھوٹی میئر رجیز شامل ہیں۔ لوبیٹ اسکارپس سطح پر بننے والی خم دار ابھری ہوئی چٹانی ساختیں ہیں، جبکہ میئر رجیز چاند کے نسبتاً ہموار میدانوں میں پائے جانے والے ابھار ہیں۔

سائنس دان ان ساختوں کا مطالعہ کرکے چاند کی اندرونی سرگرمیوں، اس کی سطح میں تبدیلیوں اور ماضی میں ہونے والے ارضیاتی عمل کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ ساختوں کا جائزہ

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زیادہ نسبتاً نئی دراڑوں اور فالٹ لائنز کی نشاندہی کی۔ ان ساختوں کی موجودگی سے چاند کے مختلف علاقوں میں سکڑاؤ اور سطحی دباؤ کے آثار کا جائزہ لینے میں مدد ملی۔

محققین نے ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا تجزیہ کیا۔ اس مشن کے ذریعے چاند کی سطح کی تفصیلی تصاویر حاصل کی جاتی ہیں، جن سے اس کی ساخت، گڑھوں، پہاڑی علاقوں اور دیگر ارضیاتی خصوصیات کا مطالعہ ممکن ہوتا ہے۔

تحقیق کی قیادت تھامس آر واٹرز نے کی، جن کا تعلق اسمتھ سونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے بتایا گیا ہے۔

چاند کے مختلف علاقوں میں سکڑاؤ کے آثار

تحقیق میں نقشہ بندی کے ذریعے ایسی ساختوں کی نشاندہی کی گئی جو چاند کے بلند پہاڑی علاقوں کے علاوہ اس کے نسبتاً ہموار میدانوں میں بھی موجود ہیں۔ ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکڑاؤ سے متعلق ارضیاتی تبدیلیاں کسی ایک مخصوص حصے تک محدود نہیں ہیں۔

چاند کی سطح پر موجود ان ساختوں کا پھیلاؤ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اندرونی تبدیلیوں کے اثرات مختلف علاقوں میں کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ تاہم ہر دراڑ یا ابھار کی تشکیل کی وجہ اور عمر کا تعین الگ مشاہدات اور ارضیاتی تجزیے سے کیا جاتا ہے۔

ہر دس لاکھ سال میں کتنی کمی ہوسکتی ہے؟

تحقیق میں ایک تخمینہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو وقت کے ساتھ یکساں تصور کیا جائے تو اس کے نصف قطر میں ہر دس لاکھ سال کے دوران تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کمی ہوسکتی ہے۔

یہ عدد ایک تخمینی شرح ہے، اسے چاند کے سکڑنے کی مستقل اور ہر دور میں یکساں رفتار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ارضیاتی عمل مختلف ادوار میں مختلف رفتار سے رونما ہوسکتے ہیں، جبکہ چاند کی سطح پر موجود ساختوں کی عمر اور تشکیل کے حالات بھی نتائج کی تشریح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

چاند کے مستقبل اور ارضیاتی تاریخ کے لیے تحقیق کیوں اہم ہے؟

چاند کی سطح پر موجود دراڑوں، فالٹ لائنز اور ابھری ہوئی ساختوں کا مطالعہ اس کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ معلومات مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہیں، کیونکہ چاند کی سطح کی ساخت اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کا علم سائنسی مشاہدات اور ممکنہ لینڈنگ مقامات کے جائزے میں معاون بنتا ہے۔

چاند کے سکڑنے کے عمل کے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بظاہر غیر متحرک نظر آنے والا یہ قدرتی سیارہ بھی طویل ارضیاتی ادوار میں تبدیلیوں سے گزرتا رہتا ہے۔ مزید مشاہدات اور تحقیق سے اس عمل کی رفتار، اس کے مختلف مراحل اور چاند کی اندرونی ساخت کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔