تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
سائنس و ٹیکنالوجی

2045 تک کیا ہونے والا ہے؟ جیف بیزوس کی حیران کن پیش گوئی سامنے آگئی

ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں خلائی ٹیکنالوجی بہت زیادہ ترقی کر جائے گی۔

 جیف بیزوس کے خیال میں 2045 تک لاکھوں انسان زمین سے باہر خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں چاند اور دیگر مقامات پر مشکل کام کرنے کے لیے انسانوں کے بجائے روبوٹس کا استعمال بھی بڑھ جائے گا۔

جیف بیزوس نے یہ خیالات اٹلی میں ہونے والے ٹیک ویک 2025 کے دوران ایک گفتگو میں پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی مستقبل کے حوالے سے امید پیدا کرتی ہے۔ انسانوں کے لیے خلا میں رہنے اور کام کرنے کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ آنے والے برسوں میں خلائی سفر اور وہاں رہائش کے امکانات پہلے سے زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔

بیزوس کے مطابق اگلے 20 برسوں میں لاکھوں افراد خلا میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔ تاہم، ان کا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ وہاں اپنی دلچسپی اور شوق کی وجہ سے جائیں گے۔ انہیں وہاں بھیجنا ہر کام کے لیے ضروری نہیں ہوگا۔ بعض کام ایسے ہیں جنہیں روبوٹس کی مدد سے بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر چاند کی سطح پر کوئی مشکل کام کرنا ہو تو اس کے لیے روبوٹس بھیجے جا سکتے ہیں۔ اس طرح انسانوں کو خلا میں لے جانے، ان کے قیام کا انتظام کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے پر آنے والے بھاری اخراجات سے بچا جا سکے گا۔ روبوٹس کی مدد سے خطرناک مقامات پر کام کرنا بھی نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی کے باعث ملازمتوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیزوس نے کہا کہ ایجادات انسانی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی بعض پرانے کاموں کو بدل سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ہل جیسی ایجادات نے زراعت اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دی تھی۔ جدید ٹیکنالوجی بھی مستقبل میں اسی طرح تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

خلا میں ملازمتوں کے بڑھتے ہوئے امکانات کے بارے میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے بھی اپنی رائے پیش کی ہے۔ آئندہ دس برسوں میں یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے والے نوجوانوں کو خلا سے متعلق شعبوں میں نئی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ ان کاموں میں بہتر معاوضے اور دلچسپ مواقع موجود ہو سکتے ہیں۔ آنے والی نسل کے لیے کیریئر کے راستے پہلے سے مختلف ہوں گے۔

دوسری جانب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بھی انسانوں کو مریخ پر پہنچانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2028 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اسپیس ایکس کا مقصد ایسے راکٹ تیار کرنا ہے جو مستقبل میں خلائی سفر کو زیادہ آسان بنائیں۔ تاہم، مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے لیے متعدد تکنیکی اور حفاظتی مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔

خلائی صنعت سے وابستہ ایک اور شخصیت، وائجر ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر نے بھی خلا میں انسانی رہائش کے امکانات پر بات کی ہے۔ اگست 2026 میں فارچون کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ خلا میں رہنا اور کام کرنا محض ایک خواب نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں عملی پیش رفت کا آغاز 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہو سکتا ہے۔