تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
سائنس و ٹیکنالوجی

فیس بک اور انسٹاگرام صارفین خبردار!!!! کون سے لنک پر کلک نہ کریں؟

فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

 سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک مشکوک لنک پر کلک کرنے سے صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ہیکرز جعلی ویب سائٹس اور پیغامات کے ذریعے صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان معلومات کو اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے اور مالی فراڈ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی سے متعلق ہدایات کے مطابق ہیکرز اکثر ایسی جعلی ویب سائٹس اور صفحات بناتے ہیں جو دیکھنے میں بالکل اصلی معلوم ہوتے ہیں۔ صارفین ان صفحات پر اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ درج کردیتے ہیں۔ اس طرح ان کی لاگ اِن معلومات ہیکرز کے ہاتھ لگ سکتی ہیں اور اکاؤنٹ پر غیر مجاز افراد کا قبضہ ہوسکتا ہے۔

واٹس ایپ اور میسنجر پر آنے والے مشکوک لنکس سے محتاط رہیں

ہیکرز صارفین کو پھانسنے کے لیے واٹس ایپ، فیس بک میسنجر اور دیگر ایپس کے ذریعے پیغامات بھیجتے ہیں۔ ان پیغامات میں کبھی انعام یا کسی فائدے کا لالچ دیا جاتا ہے، جبکہ بعض پیغامات میں اکاؤنٹ بند ہونے یا کسی ہنگامی صورت حال کا خوف دلایا جاتا ہے۔ مقصد صارف کو جلد بازی میں لنک کھولنے اور اپنی معلومات درج کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔

اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد مجرم متاثرہ شخص کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ وہ کسی ایمرجنسی، بیماری یا مالی ضرورت کا بہانہ بنا کر رقم مانگ سکتے ہیں۔ چونکہ پیغام اصل اکاؤنٹ سے بھیجا جاتا ہے، اس لیے بعض اوقات جاننے والے افراد بھی اسے حقیقی سمجھ کر دھوکے میں آجاتے ہیں۔

اس لیے اگر کسی دوست یا رشتہ دار کے اکاؤنٹ سے اچانک رقم مانگنے کا پیغام آئے تو رقم بھیجنے سے پہلے فون کال کے ذریعے تصدیق ضرور کریں۔ صرف سوشل میڈیا پیغام پر بھروسا نہ کریں۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس محفوظ رکھنے کے لیے اہم احتیاطی تدابیر

صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے لیے مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔ ایسا پاس ورڈ رکھیں جس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔ ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف اکاؤنٹس پر استعمال کرنے سے بھی گریز کریں۔

اس کے ساتھ ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن (Two-Factor Authentication) لازمی فعال رکھیں۔ اس سہولت کے ذریعے پاس ورڈ کے علاوہ تصدیق کا ایک اور مرحلہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اس سے کسی دوسرے شخص کے لیے اکاؤنٹ میں غیر مجاز طور پر داخل ہونا مشکل ہوسکتا ہے۔

صارفین کو چاہیے کہ کسی نامعلوم یا مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔ اگر کسی پیغام میں اکاؤنٹ کی تصدیق، انعام حاصل کرنے یا اکاؤنٹ بند ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو تو اس کی تصدیق متعلقہ پلیٹ فارم کی سرکاری ایپ یا ویب سائٹ سے کریں۔

او ٹی پی اور تصدیقی کوڈ کسی کو نہ دیں

اپنے اکاؤنٹ کی حفاظت کے لیے ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) اور تصدیقی کوڈ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ اگر کوئی شخص خود کو سوشل میڈیا کمپنی، بینک یا کسی ادارے کا نمائندہ ظاہر کرکے یہ کوڈ مانگے تو محتاط رہیں۔ ایسے کوڈ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔

اگر کسی صارف کو شک ہو کہ اس کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے تو اسے فوری طور پر اکاؤنٹ کی سیکیورٹی سیٹنگز چیک کرنی چاہییں۔ جہاں ممکن ہو، پاس ورڈ تبدیل کریں، نامعلوم ڈیوائسز سے لاگ آؤٹ کریں اور اکاؤنٹ کی بحالی کے لیے متعلقہ پلیٹ فارم کے سرکاری طریقہ کار پر عمل کریں۔

سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت معمولی سی احتیاط بھی بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔ مضبوط پاس ورڈ، ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن اور مشکوک لنکس سے دور رہنے سے اکاؤنٹ ہیک ہونے اور مالی فراڈ کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔