پاکستان میں 101 سے 200 ڈالر مالیت کے درآمدی موبائل فونز پر ایڈوانس انکم ٹیکس میں بڑی کمی کردی گئی ہے۔
نئی شرح کے تحت فی موبائل فون ٹیکس 930 روپے سے کم کرکے صرف 100 روپے کردیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے اس قیمت کے دائرے میں آنے والے درآمدی موبائل فونز کی لاگت کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، اس کمی کا صارفین کو کتنا فائدہ ملے گا، اس کا انحصار مارکیٹ میں فروخت ہونے والی قیمتوں پر ہوگا۔
نظرثانی شدہ ٹیکس شرحوں کے مطابق موبائل ہینڈ سیٹ پر عائد لیوی بھی کم کردی گئی ہے۔ پہلے یہ رقم 600 روپے تھی، جسے اب کم کرکے 200 روپے کردیا گیا ہے۔ اس طرح متعلقہ موبائل فونز پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور لیوی، دونوں میں کمی کی گئی ہے۔
دوسری جانب درآمدی موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس میں کمی کے باوجود موبائل فونز پر دیگر قابلِ اطلاق ٹیکس برقرار رہیں گے۔ اس لیے ہر درآمدی موبائل فون کی مجموعی قیمت میں یکساں کمی ہونا ضروری نہیں۔
حکومتی اقدامات کے تحت مختلف قیمتوں کے درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں فنانس ایکٹ 2026-27 کے تحت ٹیکس نظام میں ردوبدل اور ٹیکسوں کو معقول بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بعض قیمتوں کے زمروں میں آنے والے درآمدی ہینڈ سیٹس پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہے۔
قومی اسمبلی میں ایک تحریری جواب کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اعلان کردہ ریلیف نافذ کردیا گیا ہے۔ فی الحال درآمدی موبائل فونز پر ٹیکسوں میں مزید تبدیلی زیرِ غور نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد صارفین کی توجہ اب موبائل مارکیٹ کی قیمتوں پر مرکوز ہوگئی ہے۔
ٹیکس میں کمی کے باوجود موبائل فون کی دکانوں پر قیمت فوراً کم ہونا ضروری نہیں۔ درآمدی لاگت کے علاوہ ڈالر کی شرح، دکانداروں کا منافع، دیگر ٹیکس اور کمپنی کی قیمتوں کا تعین بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے مختلف دکانوں پر ایک ہی موبائل فون کی قیمت میں فرق ہوسکتا ہے۔






