تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سوشل میڈیا رجحان

18 سال کی عمر میں پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے نادرا کی اہم ہدایات

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے 18 سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والے شہریوں کیلئے اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔

 نادرا کے مطابق ایسے افراد جن کے والدین یا بہن بھائی نادرا کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ یا دستیاب نہیں، انہیں شناختی کارڈ کیلئے درخواست دینے سے پہلے کچھ اضافی دستاویزات اور تصدیق کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔

نادرا نے واضح کیا ہے کہ پہلی مرتبہ شناختی کارڈ بنوانے والے شہری کو اپنی شناخت ثابت کرنے کیلئے ضروری کاغذات ساتھ لانا ہوں گے۔ درخواست گزار کے پاس تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ شہریت یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ بھی قابل قبول دستاویزات میں شامل ہے۔

ایسے درخواست گزاروں کیلئے بائیومیٹرک گواہوں کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ نادرا کے مطابق 18 سال یا اس سے زائد عمر کے شناختی کارڈ رکھنے والے دو افراد بطور بائیومیٹرک گواہ درکار ہوں گے۔ ان گواہوں کی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے درخواست گزار کی شناخت کے عمل کو مکمل کیا جائے گا۔

گواہوں کے انتخاب میں قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے گی۔ نادرا کے مطابق پہلی ترجیح والد یا والدہ کی طرف کے رشتہ داروں کو دی جائے گی۔ اگر ایسے رشتہ دار دستیاب نہ ہوں تو اسی علاقے کا کوئی ایسا شخص گواہ بن سکتا ہے جو درخواست گزار کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔

اس شخص کے پاس اپنا شناختی کارڈ یا نائکوپ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس طرح نادرا درخواست گزار کی شناخت اور خاندانی معلومات کی تصدیق کا عمل مکمل کرے گا۔

نادرا نے مزید بتایا کہ درخواست گزار کو مقررہ فارمیٹ کے مطابق اقرار نامہ B بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ درخواست فارم کی تصدیق بھی ضروری ہے۔ یہ تصدیق ضابطہ 9 کے تحت کسی مجاز شخص سے کروانا ہوگی۔

اگر درخواست گزار کے پاس اپنی شناخت یا خاندانی تعلق سے متعلق کوئی اضافی دستاویز موجود ہے تو اسے بھی درخواست کے ساتھ لے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نادرا کے مطابق اضافی دستاویزات دستیاب ہونے کی صورت میں انہیں ساتھ رکھنے سے تصدیقی عمل میں مدد مل سکتی ہے۔