تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سوشل میڈیا رجحان

جعلی افسر بن کر سیاسی رہنما سے شادی، زیورات اور قیمتی سامان لے کر خاتون فرار

سیاسی رہنما سے جعلی افسر کی شادی

چندی گڑھ: بھارت میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنما امرندر سنگھ منڈوفل نے پولیس سے رجوع کرتے ہوئے ایک خاتون کے خلاف دھوکا دہی اور جعل سازی کی شکایت درج کرائی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امرندر سنگھ کا کہنا ہے کہ من وندر کور نامی خاتون نے خود کو پی سی ایس افسر ظاہر کرکے ان سے شادی کی، تاہم شادی کے چند ماہ بعد وہ گھر سے سونا، چاندی اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہوگئیں۔

خاتون کی شناخت اور سرکاری عہدے سے متعلق معاملہ

امرندر سنگھ کے مطابق من وندر کور کے اہلخانہ نے شادی سے قبل انہیں خاتون کو غیر شادی شدہ اور پی سی ایس افسر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ ان کے بقول خاتون کی عمر سے متعلق بھی ایسی معلومات فراہم کی گئیں جو بعد میں درست نہیں نکلیں۔

اے اے پی رہنما نے بتایا کہ انہوں نے من وندر کور سے فروری 2026 میں شادی کی تھی۔ شادی کی تقریب میں خاندان کے افراد اور دیگر مہمانوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی سے وابستہ معروف سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی تھی، جبکہ تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔

شادی کے بعد سابق ازدواجی زندگی کا انکشاف

امرندر سنگھ کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد جب انہوں نے خاتون کے ماضی کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو انہیں معلوم ہوا کہ من وندر کور پہلے بھی شادی شدہ رہ چکی ہیں اور طلاق لے چکی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون کا ایک 18 سالہ بیٹا بھی ہے۔ اے اے پی رہنما کے مطابق شادی سے قبل انہیں خاتون کی سابق ازدواجی زندگی اور دیگر ذاتی معلومات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

قیمتی سامان لے کر گھر سے فرار ہونے کا الزام

امرندر سنگھ نے پولیس کو دی گئی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ شادی کے چند ماہ بعد من وندر کور گھر سے سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا لے کر چلی گئیں۔

شکایت کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے خاتون سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمے میں خاتون کے بھائی، والدہ، کزن، بھابھی اور سابق گاؤں سرپنچ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کیے جانے کے بعد اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ خاتون نے اپنی شناخت، سرکاری عہدے، ازدواجی حیثیت اور دیگر معلومات سے متعلق کیا تفصیلات فراہم کی تھیں اور شکایت میں لگائے گئے الزامات کی حقیقت کیا ہے۔

واقعے نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا میں بھی توجہ حاصل کی ہے، تاہم معاملے کے تمام پہلوؤں کا تعین پولیس کی تحقیقات اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔