کراچی: کراچی سفاری پارک میں موجود ہتھنی مدھوبالا کی صحت ایک بار پھر تشویشناک ہوگئی ہے۔
بھوک میں کمی، تیزی سے وزن کم ہونے، ٹانگ میں شدید سوجن اور بار بار گرنے کے واقعات نے انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
مدھوبالا کی بگڑتی صحت کے پیش نظر کراچی سفاری پارک انتظامیہ نے غیر ملکی ماہرین سے مدد طلب کرلی ہے۔
بین الاقوامی جانوروں کی فلاحی تنظیم فور پاز سے وابستہ ڈاکٹر عامر خلیل اور سری لنکا کے ایک ماہر کی 8 اکتوبر کو کراچی آمد متوقع ہے، جہاں وہ ہتھنی کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
مدھوبالا کی حالت کیوں تشویشناک ہے؟
مدھوبالا میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بھوک میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ اس کا وزن بھی تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ہتھنی کی ایک ٹانگ میں شدید سوجن کے ساتھ اسے کھڑے ہونے اور چلنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
بار بار گرنے کے واقعات نے بھی ماہرین اور انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے، کیونکہ جسمانی کمزوری اور ٹانگ کی تکلیف کے باعث مدھوبالا کے لیے معمول کی نقل و حرکت مشکل ہوتی جارہی ہے۔
بیماری کی حتمی وجہ سامنے نہ آسکی
مدھوبالا کی حالت جانچنے کے لیے مقامی ویٹرنری ماہرین کی جانب سے مختلف طبی ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اب تک اس کی بیماری کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔
اسی صورتحال کے پیش نظر غیر ملکی ماہرین کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مدھوبالا کی مکمل طبی صورتحال کا جائزہ لے کر علاج اور نگہداشت کے حوالے سے مزید اقدامات تجویز کیے جاسکیں۔
ملکہ کی صحت بھی متاثر
کراچی سفاری پارک میں موجود دوسری ہتھنی ملکہ کی صحت سے متعلق بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے بھی اس کی صحت اور جسمانی حالت پر نظر رکھی جارہی ہے۔
کراچی میں ہاتھیوں کی صحت کا معاملہ اس سے قبل بھی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ہتھنی نور جہاں اور سونیا کی ہلاکت کے بعد مدھوبالا کی موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر سفاری پارک میں ہاتھیوں کی طبی نگہداشت، ماحول اور علاج کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
غیر ملکی ماہرین کی آمد اہم کیوں؟
مدھوبالا کے علاج کے لیے غیر ملکی ماہرین کی آمد ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ہتھنی کی جسمانی حالت مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
ماہرین اس کے طبی ریکارڈ، ٹیسٹ رپورٹس اور موجودہ علامات کا جائزہ لے کر مزید علاج اور نگہداشت کے بارے میں رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔






