واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک سنسنی خیز سوشل میڈیا پوسٹ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ ایران کے پاس ایسی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس میں ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ایرانی حکام سے درخواستیں کرتے، دھمکیاں دیتے اور مبینہ طور پر رشوت کی پیشکش کرتے سنائی دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس کہانی میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی صدر آخرکار جذباتی ہوکر رونے لگے۔ تاہم اس تمام تر بیان کے حق میں کوئی مستند صوتی ریکارڈنگ یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔
پوسٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرانا چاہتے ہیں تاکہ تیل اور پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق دباؤ کم کیا جاسکے۔ تاہم اس مقصد کے لیے مبینہ گفتگو، رشوت کی پیشکش یا آڈیو جاری کرنے کی تیاری سے متعلق کسی بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
دعویٰ کہاں سے سامنے آیا؟
دستیاب معلومات کے مطابق اس سنسنی خیز کہانی کی ابتدا ایک طنزیہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہوئی، جس کے بعد مختلف صارفین نے اسے حقیقی خبر کے انداز میں آگے پھیلایا۔ طنزیہ یا مزاحیہ پوسٹ کو اصل خبر سمجھ کر شیئر کرنے سے غیر مصدقہ معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
اب تک کوئی قابلِ تصدیق ریکارڈنگ یا ایرانی حکام کا ایسا مستند بیان سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ ٹرمپ کی مبینہ گفتگو ریکارڈ کی گئی یا اسے منظرعام پر لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس راستے سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل میں رکاوٹ عالمی منڈیوں، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اس آبی گزرگاہ کی اہمیت کے باعث اس سے متعلق خبریں اور سوشل میڈیا پوسٹس غیر معمولی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ تاہم کسی معاملے کی اہمیت اس سے متعلق ہر سنسنی خیز خبر کو درست ثابت نہیں کرتی۔
حقیقت کیا ہے؟
ٹرمپ کے ایران کے سامنے رونے، دھمکیاں دینے یا رشوت کی پیشکش کرنے سے متعلق کہانی کے حق میں کوئی مستند آڈیو یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے ثابت شدہ واقعہ قرار دینا درست نہیں۔
سوشل میڈیا پر اس پوسٹ نے توجہ ضرور حاصل کی، لیکن دستیاب شواہد کی بنیاد پر خفیہ آڈیو سے متعلق کہانی غیر مصدقہ ہے۔






