لاہور میں ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ٹریفک پولیس نے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جان لیوا حادثات میں ملوث 170 ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی مہلک یا شدید غیر مہلک حادثے میں ملوث ڈرائیور کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور عبدالرحیم شیرازی کے مطابق جان لیوا حادثات کے ذمہ دار ڈرائیورز کو صرف لائسنس کی معطلی تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ تاہم، حادثات میں ملوث ڈرائیورز کے لائسنس معطل کرنے کا عمل عدالتی احکامات سے مشروط ہوگا۔
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرنے والوں کے لائسنس کم از کم ایک سال کے لیے معطل کیے جا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین کی پابندی پر مجبور کرنا اور سڑکوں پر شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ڈرائیور لائسنس معطل ہونے کے باوجود گاڑی چلاتا پایا گیا تو اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس نے سموگ کا سبب بننے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور ایسے رویوں کی روک تھام پر توجہ دی جائے گی جو سڑکوں پر حادثات یا فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے حادثات کی روک تھام میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ضروری ہے۔ سڑک پر معمولی سی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ڈرائیورز کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ محفوظ سفر کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ٹریفک پولیس سخت قانونی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ تیز رفتاری، لاپرواہی اور دیگر خلاف ورزیوں سے گریز کریں اور ذمہ داری کے ساتھ گاڑی چلائیں۔






