تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سوشل میڈیا رجحان

“ماموں، بابا کو مت بتانا، وہ صدمے سے مر جائیں گے”؛ گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام دل دہلا گیا

اسلام آباد: ایک گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کے مبینہ طور پر جعلی ہاورڈ یونیورسٹی ایڈمیشن لیٹر کے باعث شدید ذہنی دباؤ میں آنے اور بعد ازاں خودکشی کرنے کے واقعے نے پاکستان میں تعلیمی اور ویزا فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

لائبہ ایک غریب دودھ فروش کی بیٹی تھی۔ اس کے والد نے اپنی محدود آمدن کے باوجود بیٹی کی تعلیم جاری رکھی اور اسے اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا۔ لائبہ نے محنت اور قابلیت کے ذریعے ہر مرحلے پر والدین کا نام روشن کیا اور بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گولڈ میڈل حاصل کیا۔

بیٹی کی کامیابی والد کے لیے فخر کا باعث بنی اور بہتر مستقبل کی امیدیں بھی وابستہ ہوئیں۔ لائبہ نے بھی اعلیٰ تعلیم کے ذریعے اپنے خاندان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کا خواب دیکھا اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

متن کے مطابق لائبہ نے بیرون ملک تعلیم کے سلسلے میں ایک تعلیمی کنسلٹنٹ سے رابطہ کیا، جس نے مبینہ طور پر 70 لاکھ روپے کے عوض داخلے کی ضمانت دی۔ رقم کا انتظام کرنے کے لیے خاندان نے اپنی محدود مالی وسائل استعمال کیے، جبکہ لائبہ کی والدہ کے زیورات بھی فروخت کیے گئے۔

بعد ازاں لائبہ کو ہاورڈ یونیورسٹی کے نام سے ایک ایڈمیشن آفر لیٹر موصول ہوا۔ تاہم جب اس دستاویز کو مزید کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا تو اسے مبینہ طور پر جعلی قرار دیا گیا۔

اس انکشاف کے بعد لائبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی۔ اسے اس بات کی فکر تھی کہ وہ اپنے والدین کو اس صورتحال سے کیسے آگاہ کرے گی اور ان کے سامنے کیسے جائے گی۔

متن کے مطابق لائبہ نے اپنے ماموں کو آخری پیغام میں لکھا، "ماموں، میرے والد کو مت بتانا… وہ صدمے سے مر جائیں گے!”

اس کے بعد لائبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

یہ واقعہ بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے نام پر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرنے والے جعلی ایجنٹس اور فراڈ کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے خرچ کرتے ہیں، جس کے باعث فراڈ کا شکار ہونے کی صورت میں انہیں شدید مالی اور ذہنی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متن میں بعض دیگر افراد کے ویزا فراڈ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو بیرون ملک تعلیم یا ویزا دلانے کے نام پر شہریوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔

تحریر میں سابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ماضی میں ویزا ایجنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایات اور موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ایسے فراڈ کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایسے واقعات اس بات کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ بیرون ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ اور ان کے والدین کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے یونیورسٹی، داخلے کے خط، فیس اور ویزا سے متعلق تمام معلومات براہ راست متعلقہ اداروں سے تصدیق کریں۔

لائبہ کا واقعہ ایک خاندان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جعلی تعلیمی دستاویزات اور ویزا فراڈ کرنے والے عناصر کے خلاف ریاستی اداروں کی کارروائی کس حد تک مؤثر ہے اور ایسے فراڈ سے مزید خاندانوں کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔