اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کے لیے جائیداد کی ملکیتی دستاویزات سے متعلق شرائط میں نرمی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت بینکوں کو دستاویزات کی مقررہ فہرست کے مطابق وصولی اور صارف کو دستخط شدہ رسید فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نئی ہدایات میں 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے جائیداد کے سرکاری ریکارڈ میں بینک کے حق میں لین درج کرکے قرض دینے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، ہاؤسنگ فنانس کے لیے بینک صارفین سے مقررہ فہرست کے تحت ملکیتی دستاویزات حاصل کریں گے۔ دستاویزات وصول کرتے وقت بینک کے لیے دستخط شدہ رسید دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس میں موصول ہونے والی تمام دستاویزات کی فہرست درج ہوگی۔ اس انتظام سے صارفین کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات کا واضح ریکارڈ موجود رہے گا۔
قرض دینے والے ادارے کے حق میں گھر، اپارٹمنٹ یا پلاٹ رہن رکھنے کی شرط بھی ہاؤسنگ فنانس کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔ تاہم، 50 لاکھ روپے تک کے فنانس کے لیے سرکاری جائیداد ریکارڈ میں لین درج کرکے قرض فراہم کرنے کا متبادل بھی دیا گیا ہے۔ اس سہولت سے متعلق درخواست کی منظوری اور دیگر شرائط کا تعین متعلقہ بینک کے قواعد اور اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
سولر فنانسنگ اور گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ
نئی ہدایات میں قابلِ تجدید توانائی کے قرضوں کے لیے ضمانت کے بغیر فنانسنگ کی اجازت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سولر سمیت نصب شدہ آلات کو رہن رکھ کر مالی معاونت حاصل کرنے کی سہولت بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کا مقصد قابلِ تجدید توانائی سے متعلق مالی ضروریات کے لیے مختلف ضمانتی انتظامات کی گنجائش فراہم کرنا ہے۔
ہاؤسنگ فنانس کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو بھی قابلِ قبول دستاویزات میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا دوسرے صوبوں میں اس کے مساوی سرٹیفکیٹ استعمال کیا جا سکے گا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ سرٹیفکیٹ جائیداد کی ملکیت، قبضے اور حقِ ملکیت کی تصدیق کرے گا، جبکہ اس کی بنیاد پر اضافی تاریخی یا علیحدہ ملکیتی دستاویزات کی شرط بھی ختم کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قرض لینے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ درخواست دینے سے پہلے اپنے بینک سے قابلِ قبول دستاویزات، فنانسنگ کی شرائط، ضمانت کے طریقہ کار اور متعلقہ فیس کی تفصیلات معلوم کر لیں۔






