تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سوشل میڈیا رجحان

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں، شزہ فاطمہ

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور اسے جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

اسلام آباد میں ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رسائی

شزہ فاطمہ کے مطابق، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ضوابط مکمل ہونے سے اس شعبے میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ڈیجیٹل رابطوں کی توسیع اور انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافے کو پاکستان کی ٹیکنالوجی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن ایسوسی ایشن (جی ایس ایم اے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے صنفی ڈیجیٹل فرق کم کرنے میں تیز رفتار پیش رفت کی ہے۔

انٹرنیٹ کیبلز اور آپٹیکل فائبر میں توسیع

شزہ فاطمہ نے بتایا کہ پاکستان میں ڈھائی سال کے دوران تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز لائی گئی ہیں، جبکہ بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے نئے کیبل روٹس پر کام جاری ہے۔

یونیورسل سروس فنڈ کے تحت ملک میں 17 ہزار کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر بچھائی جاچکی ہے اور فائبر براڈ بینڈ کے لیے دستیاب گھروں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انٹرنیٹ کی رسائی کو وسیع کرنا اور رابطوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔

فائیو جی اور ڈیجیٹل سہولتیں

وفاقی وزیر کے بیان کے مطابق، مارچ 2026 میں 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد پاکستان میں فائیو جی متعارف کرائی گئی۔ فائیو جی سروسز کی مؤثر فراہمی کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا ضروری قرار دیا گیا۔

انہوں نے ایندھن کی سبسڈی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے ایک کروڑ سے زیادہ افراد نے فائدہ اٹھایا اور اس سہولت کے لیے اسمارٹ فون رکھنے کی شرط نہیں رکھی گئی۔

شزہ فاطمہ نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل تقسیم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تقریباً 2.2 ارب افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں، جبکہ ایشیا پیسیفک کی تقریباً 48 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔