نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مطابق بچے کا ب فارم گم ہوجانے کی صورت میں اس کے متبادل کے لیے نادرا رجسٹریشن سینٹر سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جبکہ بعض درخواستوں کے لیے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ب فارم کو چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی) بھی کہا جاتا ہے اور یہ بچوں کی رجسٹریشن سے متعلق اہم دستاویز ہے۔ والدین کو درخواست دینے سے پہلے یہ تصدیق کرنی چاہیے کہ ان کے کیس میں آن لائن سہولت دستیاب ہے یا ذاتی طور پر نادرا مرکز جانا ضروری ہوگا۔
ب فارم دوبارہ حاصل کرنے کی فیس
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ب فارم کے متبادل کے لیے نارمل کیٹیگری کی فیس 50 روپے جبکہ ایگزیکٹو کیٹیگری کی فیس 500 روپے ہے۔ درخواست دینے سے پہلے نادرا کی سرکاری ویب سائٹ یا متعلقہ رجسٹریشن سینٹر سے تازہ ترین فیس اور طریقۂ کار کی تصدیق کرنا بہتر ہے۔
پہلی بار ب فارم بنوانے کا طریقہ
بچے کا ب فارم پہلی مرتبہ بنوانے کے لیے نادرا رجسٹریشن سینٹر یا دستیاب آن لائن سہولت سے درخواست دی جاسکتی ہے۔ عام طور پر بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ اور والدین کے شناختی کارڈ درکار ہوتے ہیں، جبکہ مقررہ فیس بھی جمع کرانا ہوتی ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 10 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تصویر اور 10 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے بائیومیٹرک معلومات، جن میں فنگر پرنٹس اور آنکھوں کی شناخت شامل ہوسکتی ہے، درکار ہوتی ہیں۔
بعض عمر کے بچوں کی رجسٹریشن کے لیے والدین کو نادرا مرکز میں حاضر ہونا پڑسکتا ہے۔ اس لیے پہلی مرتبہ ب فارم بنوانے یا گمشدہ دستاویز کا متبادل حاصل کرنے سے پہلے بچے کی عمر کے مطابق شرائط اور ضروری دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے۔






