تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
سوشل میڈیا رجحان

اپنا گھر اسکیم میں بڑی آسانی، درخواست کے لیے 25 کے بجائے صرف 5 دستاویزات درکار ہوں گی

وفاقی حکومت نے اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت قرض حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے درخواست کے ساتھ درکار دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف پانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں قرض کی درخواستوں کی کارروائی تیز کرنے کے لیے پروسیسنگ کی زیادہ سے زیادہ مدت 15 کاروباری دن مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کے لیے ہاؤسنگ فنانسنگ تک رسائی آسان بنانا اور درخواستوں پر کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کم کرنا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست کا طریقہ کار مزید سادہ بنایا جائے اور شہریوں کو پراپرٹی کی ملکیت سے متعلق ضروری اسناد حاصل کرنے میں رہنمائی فراہم کی جائے۔ گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے قرض کی درخواست دیتے وقت ملکیت کے کاغذات اور دیگر قانونی تقاضے اہم ہوتے ہیں، اس لیے دستاویزات کے حصول اور جانچ کا عمل آسان بنانا درخواست گزاروں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دستاویزات کی تعداد میں کمی کے ساتھ 15 کاروباری دنوں کی پروسیسنگ مدت مقرر ہونے سے درخواست گزاروں کو اپنی درخواست کی کارروائی کے لیے ایک واضح متوقع مدت مل سکتی ہے۔ تاہم مقررہ مدت میں کارروائی مکمل ہونے کا مطلب خودکار قرض منظوری نہیں ہے؛ قرض کے اجرا کا انحصار متعلقہ اسکیم کی اہلیت، مالی جانچ، پراپرٹی کی دستاویزات اور دیگر شرائط پر ہوگا۔ درخواست گزاروں کو پانچ مطلوبہ دستاویزات کی حتمی فہرست اور اہلیت کے معیار کی سرکاری تصدیق بھی کرنی چاہیے۔

اجلاس میں ہاؤسنگ کے علاوہ زراعت اور چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اکتوبر کے آخر تک قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے حتمی تجاویز پیش کی جائیں۔ اس مشاورت کا دائرہ ہاؤسنگ فنانسنگ، زرعی قرضوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کی مالی ضروریات تک پھیلا ہوا ہے۔

اجلاس میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق زرعی قرضوں کا حجم 1,352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت نے جون 2027 تک اسے بڑھا کر 1,500 ارب روپے کرنے اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد 45 لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اہداف زرعی شعبے میں مالی وسائل کی رسائی بڑھانے کے حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بھی قرضوں کی فراہمی جاری ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک تین لاکھ 52 ہزار سے زائد کاروباروں کو 1,137 ارب روپے کے قرضے دیے جا چکے ہیں۔ جون 2027 تک قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید کاروباری افراد کی تعداد پانچ لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا ہدف ہے۔

اپنا گھر اسکیم میں دستاویزات کی کمی اور مقررہ پروسیسنگ مدت شہریوں کے لیے اہم سہولت بن سکتی ہے، تاہم عملی فائدے کا انحصار درخواست کے نئے طریقہ کار کے نفاذ، اہلیت کی واضح شرائط اور قرض کی منظوری کے عمل پر ہوگا۔