پاکستان میں پاسپورٹ کے اجرا کے نظام میں اہم تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری کی گئی ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سے ای پاسپورٹ نظام پر منتقلی کی تاریخ 15 اکتوبر سے تبدیل کرکے 23 اکتوبر 2026 مقرر کردی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت 23 اکتوبر سے پاکستان بھر کے پاسپورٹ دفاتر اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں نئے پاسپورٹ کے درخواست دہندگان کو صرف ای پاسپورٹ جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم بیرونِ ملک مختلف مشنز کے شیڈول میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے درخواست گزاروں کو اپنے متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے سے تازہ ہدایات کی تصدیق کرنی چاہیے۔
ای پاسپورٹ کے اجرا کی تاریخ کیوں تبدیل ہوئی؟
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سے جدید ای پاسپورٹ نظام پر منتقلی پہلے 15 اکتوبر سے شروع ہونا تھی، لیکن اب اس کے آغاز کی تاریخ 23 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں نئے پاسپورٹ کے درخواست گزاروں کو مقررہ تاریخ کے بعد نئے نظام کے تحت دستاویز حاصل کرنا ہوگی۔ پاسپورٹ دفاتر اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز کو اس منتقلی کے مطابق اپنا انتظامی اور تکنیکی نظام ترتیب دینا ہوگا۔
تاہم منتقلی کی تاریخ اور مختلف دفاتر میں اس کے عملی نفاذ کی تفصیلات کے لیے امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے سرکاری نوٹیفکیشن کو بنیادی حوالہ سمجھنا چاہیے۔
بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے کیا تبدیلی ہوگی؟
فراہم کردہ معلومات کے مطابق نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے نے 14 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس میں 23 اکتوبر کی نئی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔
دوحہ میں پاکستانی سفارتی مشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہاں 22 اکتوبر تک مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے، جبکہ 25 اکتوبر سے ای پاسپورٹ کا اجرا شروع ہوگا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منتقلی کے دوران مختلف سفارتی مشنز میں آخری تاریخ اور نئے نظام کے آغاز کا شیڈول مختلف ہوسکتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو درخواست دینے سے پہلے اپنے متعلقہ مشن کی ویب سائٹ یا سرکاری نوٹس دیکھنا چاہیے تاکہ درخواست جمع کرانے میں تاخیر یا غیر ضروری پریشانی سے بچا جاسکے۔
کیا پرانا مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ ختم ہوجائے گا؟
پہلے سے جاری شدہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق درست پاسپورٹ اپنی مقررہ میعاد ختم ہونے تک کارآمد رہیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف نئے نظام کے آغاز کی وجہ سے شہریوں کو اپنا موجودہ پاسپورٹ فوری طور پر تبدیل کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی، بشرطیکہ پاسپورٹ درست ہو اور متعلقہ سفری تقاضے پورے کرتا ہو۔
البتہ سفر کرنے والوں کو منزل کے ملک کے ویزا، پاسپورٹ کی باقی ماندہ میعاد اور دیگر داخلہ شرائط الگ سے ضرور دیکھنی چاہییں۔
ای پاسپورٹ کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟
ای پاسپورٹ جدید سفری دستاویز ہے جس میں الیکٹرانک چِپ شامل ہوتی ہے۔ اس چِپ میں پاسپورٹ ہولڈر کی شناخت سے متعلق مخصوص معلومات محفوظ کی جاتی ہیں، جنہیں متعلقہ نظام کے ذریعے پڑھا جاسکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد سفری دستاویز کی سکیورٹی بہتر بنانا، شناخت کی تصدیق میں مدد دینا اور بین الاقوامی سفری نظام کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہے۔
ای پاسپورٹ کا اجرا خودبخود ویزا کی ضمانت نہیں دیتا اور نہ ہی اس سے ہر ملک میں داخلے کے قوانین تبدیل ہوتے ہیں۔ مسافروں کو متعلقہ ملک کے ویزا اور امیگریشن قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
شہریوں کو اب کیا کرنا چاہیے؟
نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والے شہریوں کو چاہیے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ پاسپورٹ دفتر سے معلوم کرلیں کہ وہاں ای پاسپورٹ کا اجرا کب شروع ہوگا اور درخواست کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے سفارت خانے یا قونصل خانے کے تازہ شیڈول کے مطابق درخواست دیں۔ جن شہریوں کے پاس پہلے سے درست مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ موجود ہیں، وہ اس کی میعاد اور اپنی سفری ضروریات دیکھ کر اگلا قدم اٹھائیں۔






