تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
سوشل میڈیا رجحان

بی آئی ایس پی ادائیگیوں کا نظام تبدیل کرنے کی تیاری، ڈیجیٹل والٹ کے لیے اسمارٹ فون لازمی نہیں

بی آئی ایس پی ادائیگیوں کا نیا نظام

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحق افراد کے لیے ادائیگیوں کو زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنانے کے سلسلے میں ڈیجیٹل والٹ کا نظام اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

پروگرام کی انتظامیہ کے مطابق مستحق خواتین کو رقوم کی ادائیگی متعلقہ بینکوں کے مجاز ایجنٹس کے ذریعے جاری رہے گی، جبکہ نئے نظام کے تحت ادائیگیوں تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس سہولت کی ایک اہم خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ ڈیجیٹل والٹ کھلوانے کے لیے اسمارٹ فون ہونا لازمی نہیں۔

بی آئی ایس پی کی ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عصمت نواز کے مطابق ملک کے ہر علاقے میں بینک برانچوں کی موجودگی ممکن نہیں، اسی لیے مجاز ایجنٹس کے ذریعے رقوم کی ادائیگی کا طریقہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس انتظام میں بینک پروگرام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، جبکہ ادائیگی کرنے والے ایجنٹس اپنے متعلقہ بینکوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ادائیگیوں میں زیادہ سہولت کا منصوبہ

ڈاکٹر عصمت نواز نے انٹرآپریبلٹی کے نظام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے ذریعے مستحق افراد کو مختلف بینکوں سے رقوم وصول کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا تصور شامل ہے۔ اس کا مقصد ادائیگیوں کے لیے کسی ایک مخصوص ذریعے پر انحصار کم کرنا اور مستحق خواتین کے لیے رقوم تک رسائی آسان بنانا ہے۔

تاہم مختلف بینکوں سے رقم وصول کرنے کی سہولت کی عملی دستیابی متعلقہ نظام، بینک کی شمولیت اور جاری کردہ طریقہ کار پر منحصر ہوگی۔ مستحق افراد کو رقم وصول کرنے سے پہلے اپنے متعلقہ ادائیگی مرکز یا بی آئی ایس پی کے سرکاری ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔

مستحق خواتین کو کتنی رقم ملتی ہے؟

فراہم کردہ معلومات کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت اہل مستحق خواتین کو ہر تین ماہ بعد 14 ہزار 500 روپے فراہم کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مالی امداد کا مقصد کم آمدنی والے گھرانوں کو بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مدد دینا ہے۔ تاہم ادائیگی کی موجودہ رقم، اہلیت اور قسط کے اجرا کی تاریخ کی تصدیق سرکاری اعلان سے کرنا ضروری ہے، کیونکہ امدادی رقوم اور پروگرام کی شرائط میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

اسمارٹ فون کے بغیر ڈیجیٹل والٹ

ڈیجیٹل والٹ کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مستحق خواتین سادہ موبائل فون کے ذریعے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اس سے ان خواتین کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں تک رسائی آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے جن کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔ البتہ والٹ کھلوانے، تصدیق اور رقم وصول کرنے کا مکمل طریقہ کار متعلقہ سرکاری ہدایات کے مطابق ہوگا۔

بی آئی ایس پی کا آغاز 2008 میں ہوا تھا اور یہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سماجی تحفظ کے اہم پروگراموں میں شامل ہے۔ ڈیجیٹل والٹ کی طرف پیش رفت کا بنیادی مقصد ادائیگیوں کو زیادہ منظم بنانا ہے۔ مستحق خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور تصدیقی کوڈ غیر متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں اور کسی غیر مجاز شخص کو رقم وصول کرنے کے لیے ادائیگی نہ کریں۔