لاہور (جی ٹی وی نیوز اردو) — لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں سردیوں کا باقاعدہ آغاز نومبر میں متوقع ہے، جبکہ اکتوبر کے آخری دنوں اور نومبر کے پہلے ہفتے میں آنے والا مغربی موسمی نظام درجہ حرارت میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ موسم میں تبدیلی بتدریج آنے کا امکان ہے، اس لیے شہریوں کو سردی کی شدت محسوس کرنے کے لیے مزید کچھ وقت انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ آٹھ سے دس برس کے دوران موسم کے معمولات میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس عرصے میں سردیوں کے دیر سے شروع ہونے اور شدید سردی کا دورانیہ کم ہونے کے رجحانات سامنے آئے ہیں۔ گلوبل وارمنگ، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور فضائی گردش کے نظام میں تبدیلیاں بھی درجہ حرارت اور موسمی حالات پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں سردیوں کا موسم کب شروع ہوتا ہے؟
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات محمد علیم الحسن کے مطابق پاکستان میں سردیوں کا عمومی سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک شمار کیا جاتا ہے، تاہم مختلف علاقوں میں سردی کی شدت اور دورانیہ مختلف رہتا ہے۔ پہاڑی اور شمالی علاقوں میں سردی پہلے شروع ہو سکتی ہے، جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت کی نمایاں کمی عموماً بعد میں محسوس ہوتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تین ماہ کی پیش گوئی میں رواں سیزن کے دوران بارشیں معمول کے قریب رہنے اور درجہ حرارت معمول سے قدرے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس پیش گوئی کا مطلب یہ ہے کہ موسم سرما کے دوران سردی کی شدت ہر مرحلے پر یکساں رہنے کے بجائے موسمی نظاموں اور مقامی حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔
شدید سردی کا دورانیہ کم کیوں ہو رہا ہے؟
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ برسوں میں شدید سردی کا دورانیہ تقریباً 75 دن سے کم ہو کر 50 دن تک رہ گیا ہے، جبکہ رات اور دن کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے نزدیک گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث درجہ حرارت کے معمولات میں تبدیلیاں اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی گردش اور ہواؤں کے نظام میں تبدیلی بھی سرد موسم کی آمد، شدت اور دورانیے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اکتوبر کے آخر میں درجہ حرارت میں کتنی کمی متوقع ہے؟
اکتوبر کے آخری دنوں اور نومبر کے پہلے ہفتے میں نسبتاً بہتر مغربی موسمی نظام آنے کا امکان ہے۔ اس نظام کے نتیجے میں درجہ حرارت میں کمی آ سکتی ہے اور لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں سردی کی ابتدائی شدت محسوس ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے میدانی علاقوں میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً 30 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ رہ گیا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ کمی موسم کی بتدریج تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اس سے سردیوں کے مکمل آغاز کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور میں دن گرم اور راتیں نسبتاً ٹھنڈی کیوں ہیں؟
لاہور اور پنجاب کے دیگر میدانی علاقوں میں دن کے وقت جنوبی اور جنوب مشرقی سمت سے آنے والی نسبتاً گرم ہوائیں درجہ حرارت کو بلند رکھنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ رات کے وقت ہواؤں کی سمت تبدیل ہونے یا ان کی رفتار کم ہونے سے درجہ حرارت میں کمی آ سکتی ہے۔
اسی وجہ سے دن کے وقت گرمی محسوس ہونے کے باوجود رات اور صبح کے اوقات میں موسم نسبتاً ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت کی تبدیلی کا انحصار مغربی موسمی نظام کی پیش رفت اور مقامی فضائی حالات پر ہوگا۔
پنجاب میں سموگ کی شدت کم ہوگی یا بڑھے گی؟
پنجاب حکومت نے سموگ پر قابو پانے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، صنعتی یونٹس اور اینٹوں کے بھٹوں کی نگرانی، سڑکوں کی صفائی اور دیگر اقدامات کیے ہیں۔ تاہم سموگ کی شدت صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ ہواؤں کی سمت، رفتار اور فضائی آلودگی کے پھیلاؤ سے بھی متاثر ہوتی ہے۔
شمال یا شمال مغرب سے چلنے والی ہوائیں درجہ حرارت میں کمی لانے کے ساتھ آلودہ ذرات کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس کے برعکس جنوب مشرقی سمت سے آلودگی لے کر آنے والی ہوائیں فضائی معیار کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔
آئندہ موسمی نظاموں سے فضا میں آلودگی کے پھیلاؤ کے لیے نسبتاً سازگار حالات پیدا ہونے کی توقع ہے، تاہم سموگ کی شدت اور دورانیے کا حتمی اندازہ متعلقہ وقت کے موسمی حالات کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکے گا۔ شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ موسم اور فضائی معیار سے متعلق تازہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
سردیوں کے آغاز کے لیے شہری کیا توقع رکھیں؟
موجودہ موسمی رجحانات کے مطابق اکتوبر کے آخری دنوں سے درجہ حرارت میں مزید کمی آ سکتی ہے، جبکہ نومبر میں لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں سردی کی شدت بتدریج بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم تین ماہ کی پیش گوئی میں درجہ حرارت معمول سے قدرے زیادہ رہنے کی توقع کے باعث سردی کی شدت اور دورانیے میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔






