امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق امریکی فوجی میجر نڈال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔
سابق امریکی میجر نڈال حسن فوج میں ماہر نفسیات کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
فوجی عدالت نے نڈال حسن کو 2013 میں سزائے موت سنائی تھی۔ فوجی جیوری نے انہیں قتل اور اقدامِ قتل کے متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے سابق میجر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی سفارش پر دی۔ پینٹاگون کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے وقت اور مقام کا تعین آرمی سیکریٹری کریں گے۔
نڈال حسن کا معاملہ امریکی فوج میں سزائے موت کے حوالے سے بھی غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔ اگر سزا پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ 1961 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے کسی فوجی کی پہلی سزائے موت ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری معلوم فوجی سزائے موت نومبر 1945 میں دی گئی تھی۔ اس طرح نڈال حسن کی سزا پر عمل درآمد کی صورت میں کئی دہائیوں بعد امریکی فوج میں فائرنگ اسکواڈ کے طریقے کا دوبارہ استعمال ہوگا۔






