مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی الخلیل کے علاقے میں فلسطینی بستی غوین سے سامنے آنے والی ویڈیو نے اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے طرز عمل پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ فوٹیج میں فلسطینی خواتین اور ایک معذور شخص کے ساتھ بدسلوکی اور جسمانی تشدد کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے چار اہلکار ایک غیر قانونی یہودی چوکی کے مالک مردخائی زکریا کے ہمراہ فلسطینی بستی میں داخل ہوئے۔ سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں زکریا کو کرسی پر موجود ایک معذور فلسطینی شخص کے سر پر چھڑی سے ضربیں لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔
مناظر میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے معذور شخص کو دھکا دینے اور زکریا سمیت دیگر افراد کی جانب سے اسے زمین پر گرانے کا واقعہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ واقعے کے دوران وہاں موجود فلسطینی خواتین کو بھی گھر کے اندر جانے کا حکم دیا گیا۔
فوٹیج کے مطابق ایک خاتون کے انکار پر یہودی آبادکار نے اسے زبردستی گھر کے اندر دھکیلا اور دروازہ بند کردیا، جس کے بعد اسرائیلی فوجی وہاں سے روانہ ہوگئے۔
اسرائیلی شہری حقوق کے کارکنوں کے مطابق ویڈیو سیکیورٹی کیمرے سے حاصل ہوئی اور اسے تنظیم ’’بریکنگ دی سائلنس‘‘ تک پہنچایا گیا۔ تنظیم نے واقعے کے حوالے سے دستیاب فوٹیج کو سامنے لایا ہے۔
اسرائیلی فوج سے اس بارے میں وضاحت طلب کی گئی کہ اہلکار فلسطینی بستی میں کس مقصد سے داخل ہوئے، رہائشیوں کے ساتھ جسمانی تصادم کی نوبت کیوں آئی اور غیر قانونی چوکی کا مالک فوجیوں کے ساتھ کیوں موجود تھا، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی کو درپیش دباؤ اور اسرائیلی فوج و آبادکاروں کے باہمی تعاون سے متعلق پہلے سے موجود خدشات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔






