آبنائے ہرمز میں عمان کے قریب پاناما کے پرچم بردار تیل بردار جہاز ’’ایم ٹی آن پیس‘‘ کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں 11 بھارتی شہری شامل ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی تھی، تاہم ابتدائی طور پر جہاز کی شناخت اور حملے کی نوعیت سامنے نہیں آئی تھی۔
بعد ازاں بھارتی حکام کے مطابق متاثرہ جہاز ایم ٹی آن پیس تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 19 افراد سوار تھے جن میں 17 بھارتی شہری شامل تھے۔ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 12 افراد میں سے 11 کا تعلق بھارت سے ہے۔
حملے کے بعد عمانی حکام نے زخمی افراد کو جہاز سے نکالا اور طبی امداد کے لیے عمان کے شہر خصب منتقل کیا۔ زخمیوں کا علاج جاری ہے جبکہ حملے کے ذمہ دار فریق کی شناخت کے حوالے سے فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی تجارتی جہاز کو پیش آنے والا واقعہ عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی عالمی منڈی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مسلسل عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ خطے میں بڑھتی فوجی کشیدگی نے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے۔






