ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی فضائی طاقت کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق ایک رپورٹ نے واشنگٹن کی عسکری برتری کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کردیے ہیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے یا تو تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان نقصانات میں نمایاں تعداد ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی رہی، جن میں سے کم از کم 45 ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران ضائع ہوئے۔
امریکی فضائی نقصانات صرف براہ راست ایرانی کارروائیوں تک محدود نہیں رہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں کویت کے اندر ایک فائرنگ کے واقعے میں تین طیارے تباہ ہوئے جبکہ اپریل میں ایران کے اوپر ایک ایف 15 ای جنگی طیارہ بھی تباہ ہوا۔
ستمبر میں اردن کے ایک فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں 15 ایف 8 طیاروں کو نقصان پہنچنے کی بھی نشاندہی کی گئی، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ آپریشنل کردیا گیا۔
اس کے علاوہ ایک ایف 35 اے لائٹننگ ٹو، دو اے 10 تھنڈر بولٹ ٹو اور ایک کے سی 135-سی فضائی ایندھن بھرنے والا طیارہ بھی متاثر ہونے والے امریکی اثاثوں میں شامل بتایا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار امریکی فضائی طاقت کے حوالے سے واشنگٹن کے روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی اور جدید ترین فضائی نظام رکھنے کے باوجود امریکی فضائی اثاثوں کو طویل جنگ میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
خاص طور پر ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی بڑی تعداد میں تباہی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طویل فاصلے کی نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے امریکی فضائی نظام بھی ایسے میدان جنگ میں مکمل تحفظ نہیں رکھتے جہاں مخالف فریق جدید دفاعی اور حملہ آور صلاحیت استعمال کررہا ہو۔
ایران کے لیے یہ صورتحال اس مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ امریکی فضائی برتری کو ناقابلِ شکست سمجھنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، جبکہ جنگ کے بڑھتے اخراجات اور مسلسل فوجی نقصانات امریکا کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔






