واشنگٹن: امریکا میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئی امریکی فوجی کارروائی کا امکان سامنے آیا ہے، وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون سے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے لیے مختلف فوجی آپشنز تیار کرنے کو کہا ہے۔
امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف انتخابات سے پہلے محدود نوعیت کی نئی فوجی کارروائی کے امکانات پر غور کر رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی نئے حملے کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے فوجی منصوبہ ساز مختلف آپشنز پر کام کر رہے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔
انتخابات سے پہلے کارروائی کیوں؟
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں واضح پیش رفت دکھانا چاہتے ہیں جبکہ امریکی انتظامیہ پر ملک کے اندر ایندھن کی بلند قیمتیں کم کرنے کا بھی شدید دباؤ ہے۔
ایران جنگ اور عالمی توانائی کی رسد میں خلل امریکی سیاست کا بھی اہم مسئلہ بن چکا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔
حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی بلند سطح پر رہی ہیں اور ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتیں امریکی ووٹرز کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔
انتخابات کے بعد بڑی کارروائی کا آپشن بھی زیر غور
دی اٹلانٹک کے مطابق امریکی انتظامیہ میں صرف انتخابات سے پہلے محدود کارروائی ہی زیر بحث نہیں بلکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف زیادہ وسیع فوجی کارروائی کے امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
تاہم یہ تمام تجاویز فی الحال منصوبہ بندی اور مشاورت کے مرحلے میں ہیں اور صدر ٹرمپ نے کسی مخصوص فوجی آپشن کی حتمی منظوری نہیں دی۔
ایران کی جانب سے سخت جواب کا خطرہ
ایران پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر امریکا نے بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے کیے تو اس مرتبہ جوابی کارروائی زیادہ سخت ہوسکتی ہے۔
ایسے میں کسی نئے امریکی حملے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے ساتھ عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔
جنگ کے ساتھ مذاکرات بھی جاری
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک جانب واشنگٹن فوجی آپشنز پر غور کررہا ہے تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنے جوہری پروگرام، بالخصوص یورینیم افزودگی کے معاملے پر امریکا کو قابلِ قبول رعایتیں دینا ہوں گی۔
ایران دوسری جانب یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کرتا آیا ہے۔
فیصلہ ٹرمپ کے ہاتھ میں
فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران پر نئے امریکی حملے کا فیصلہ نہیں ہوا۔
پینٹاگون سے صرف ممکنہ فوجی آپشنز تیار کرنے کو کہا گیا ہے، جن میں انتخابات سے پہلے محدود کارروائی سے لے کر انتخابات کے بعد زیادہ وسیع فوجی آپریشن تک مختلف امکانات زیر غور بتائے جارہے ہیں۔
اگر صدر ٹرمپ ان میں سے کسی آپشن کی منظوری دیتے ہیں تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک مرتبہ پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔
ماخذ: دی اٹلانٹک، امریکی انتظامیہ کے حکام






