ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی حقائق کو مسخ کر کے امریکہ اپنے معاہدے توڑنے کی تاریخ کو نہیں چھپا سکتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران نے معاہدے کے کئی مواقع ضائع کیے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ تاریخی حقائق کو الٹ کر پیش کرنے سے پبلک سرکلز سے امریکہ کی بار بار عہد شکنی کی حقیقت کو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔
اسماعیل بقائی نے واشنگٹن کی طرف سے بدنیتی پر مبنی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے 8 مئی 2018 کو جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری، سفارتی راستوں میں سبوتاژ، مذاکرات کے دوران ایران پر فوجی جارحیت اور اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے موجودہ کشیدگی اور اقتصادی بحران کا ذمہ دار براہ راست امریکہ کو قرار دیا۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی خود ایران کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے عمان کے ساتھ مل کر خلیج فارس میں سلامتی کی بحالی کے لیے انتہائی کامیاب مشاورت کی ہے اور بہت جلد اس حوالے سے عالمی سطح پر عملی قدم اٹھایا جائے گا۔






