امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران نے اس ماہ نیویارک میں بالواسطہ مذاکرات کے دوران تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی ہے۔
یہ بات چیت ایک امریکی عہدیدار، ایک مشرق وسطیٰ کے عہدیدار اور ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم ترین اور بقایا مسائل کو بھی شامل کیا جائے۔
واشنگٹن صرف آبنائے ہرمز پر مرکوز کسی عارضی یادداشت پر اکتفا کرنے کے حق میں نہیں ہے جب تک کہ جوہری مذاکرات کی طرف قدم نہ بڑھایا جائے۔
دوسری طرف، ایران نے ایک ہفتے کا ایسا منصوبہ تجویز کیا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے میں امریکہ پابندیاں ہٹانا شروع کرے گا اور منجمد ایرانی فنڈز بحال کرے گا، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں الگ سے کیے جائیں گے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کیا تھا۔






