ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سیاسی کمانڈر نے امریکہ کے آبنائے ہرمز سے تیل اور جہازوں کی آمد و رفت جاری رہنے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی کمانڈر علی محمدی نے امریکی صدر کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق علی محمدی نے سوال کیا کہ اگر آبنائے ہرمز سے واقعی تیل اور جہاز گزر رہے ہیں تو تیل کی مارکیٹ اس پر کوئی ردعمل کیوں نہیں دے رہی؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ بھی بخوبی سمجھتی ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
انہوں نے امریکی ان دعوؤں کو بھی چیلنج کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر امریکی فورسز آبنائے ہرمز کے قریب آنے کے بجائے 600 سے 700 کلومیٹر دور کیوں بیٹھی ہیں؟
علی محمدی کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں جہازوں کی نقل و حرکت پر مکمل نگرانی رکھتی ہے۔






