واشنگٹن: ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں واشنگٹن کو پہنچنے والے فضائی نقصانات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔
امریکی کانگریس کی تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 81 امریکی جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔
امریکی کانگریس کی تحقیقی سروس کی 5 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مئی میں امریکی فضائی نقصانات کی تعداد 42 بتائی گئی تھی، جو اب بڑھ کر 81 ہوگئی ہے۔
اس طرح چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے فضائی نقصانات تقریباً دوگنا ہوگئے ہیں۔
امریکی ڈرون طیاروں کو سب سے زیادہ نقصان
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں سب سے زیادہ نقصان امریکا کے جدید ایم کیو 9 ریپر ڈرون طیاروں کو پہنچا۔
اب تک کم از کم 45 ریپر ڈرون ضائع ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ جون تک یہ تعداد 30 کے قریب بتائی جارہی تھی۔
ریپر ڈرون امریکی فوج کے اہم بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں نگرانی، انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے اور ہدف پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ان طیاروں کی بڑی تعداد میں تباہی امریکی فوج کے لیے مالی اور عملی اعتبار سے اہم نقصان سمجھی جارہی ہے۔
سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر طیاروں کو نقصان
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے پانچ کے سی 135 ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کو نقصان پہنچا۔
مجموعی طور پر سات کے سی 135 طیارے جنگ کے دوران تباہ یا متاثر ہونے والے طیاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔
یہ طیارے دورانِ پرواز جنگی جہازوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں، جس سے طویل فاصلے تک فوجی کارروائیاں ممکن ہوتی ہیں۔
اسی فوجی اڈے پر امریکی فضائی نگرانی اور کمانڈ کے اہم طیارے ای تھری سینٹری کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی۔
یہ طیارہ جدید ریڈار اور فضائی نگرانی کے نظام سے لیس ہوتا ہے اور جنگی کارروائیوں کے دوران فضائی صورتحال کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایف 35 اور ایف 15 سمیت جدید جنگی طیارے بھی متاثر
امریکی رپورٹ میں ایف 35 اے، ایف 15 ای اور اے 10 سمیت مختلف جنگی طیاروں کے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ایف 15 ای طیاروں سے متعلق مجموعی طور پر 12 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں تباہ ہونے والے اور معمولی نقصان اٹھانے والے دونوں طرح کے طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض امریکی طیاروں کو ایرانی حملوں میں نقصان پہنچا، جبکہ چند واقعات حادثات اور اتحادی افواج کی غلطی سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں پیش آئے۔
اردن کے ایک فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران آٹھ ایف 15 ای طیاروں کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
ایران میں امریکی پائلٹوں کی بازیابی کا آپریشن بھی مہنگا پڑا
ایران کے اندر امریکی فضائی عملے کی بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن میں بھی امریکا کو متعدد فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ میں چار اے ایچ 6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹروں اور دو ایم سی 130 جے طیاروں کی تباہی کا ذکر موجود ہے۔
اس کے علاوہ اے ایچ 64 اپاچی اور امدادی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹروں کے نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران جنگ پر امریکا کے 38 ارب ڈالر خرچ
فضائی نقصانات کے ساتھ جنگ کے مالی اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
امریکی کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق یکم اگست 2026 تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر امریکی محکمہ دفاع کے تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔
اس رقم میں فوجی کارروائیوں، استعمال ہونے والے ہتھیاروں، ایندھن، اضافی پروازوں اور جنگ میں ضائع ہونے والے سازوسامان کے متبادل اخراجات شامل ہیں۔
بجٹ آفس کے اندازے کے مطابق تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان کی تبدیلی پر مزید تقریباً ایک ارب 90 کروڑ سے تین ارب 30 کروڑ ڈالر تک لاگت آسکتی ہے، جس کا انحصار امریکی محکمہ دفاع کے متبادل خریداری کے منصوبوں پر ہوگا۔
پینٹاگون کے لیے مزید 67 ارب ڈالر کا مطالبہ
امریکی انتظامیہ نے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے محکمہ دفاع کی مد میں مزید 67 ارب 10 کروڑ ڈالر کی اضافی فنڈنگ مانگی ہے۔
یہ رقم جون میں پیش کی گئی وسیع تر اضافی بجٹ درخواست کا حصہ تھی۔
جنگی اخراجات اور جدید فوجی سازوسامان کے نقصانات نے امریکی کانگریس کے سامنے دفاعی بجٹ، فوجی تیاریوں اور تباہ ہونے والے طیاروں کی جگہ نئے طیارے حاصل کرنے سے متعلق اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ میں اہم وضاحت
کانگریس کی تحقیقی سروس نے واضح کیا ہے کہ 81 طیاروں کی تعداد کو مکمل طور پر تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس فہرست میں وہ طیارے بھی شامل ہیں جنہیں جزوی نقصان پہنچا اور ممکن ہے کہ مرمت کے بعد دوبارہ استعمال میں لایا جاچکا ہو۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کی نوعیت، بعض معلومات کی رازداری اور مزید تفصیلات سامنے آنے کے باعث نقصانات کی تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
تازہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں صرف جنگی اخراجات ہی نہیں بڑھا رہیں بلکہ جدید جنگی طیاروں، نگرانی کے نظام اور ڈرون طیاروں کے ذخیرے پر بھی دباؤ ڈال رہی ہیں۔






