ایرانی صدر نے امریکی یکطرفہ اور جارحانہ پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے مسلسل دباؤ کے باوجود ایران سفارت کاری اور مذاکرات کی میز کو خیرباد نہیں کہے گا۔
ترکمانستان کے شہر ترکمانی باشی میں سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور کیسپین سمندری ماحولاتی کانفرنس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان انتہائی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے بات چیت اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے، لیکن جب بھی واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوتا ہے تو امریکی انتظامیہ نئے حملوں اور پابندیوں کا سہارا لیتی ہے۔ اس کے باوجود ایران مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ اپنے قومی مفادات اور قانونی حقوق کے دائرے میں رہ کر سفارتی تجاویز اور ترامیم پر ثالثوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔
صدر پزشکیان نے عالمی سطح پر امریکی تسلط اور یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف روس کے دیرینہ اور ثابت قدم مؤقف کی زبردست تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اور خطے کو اب کثیر جہتی تعلقات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ امریکہ اپنی اندرونی اور معاشی پالیسیاں دوسرے آزاد ممالک پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک، معاشی، تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو سراہا۔
پیوٹن نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات اور سلامتی کا پیغام بھیجا اور اس بات پر زور دیا کہ ماسکو خطے کے موجودہ بحرانوں اور جنگی صورتحال کو سفارتی ذرائع اور تجاویز کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔






