یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد یورپ کے اندر اسلامی تنظیموں اور نیٹ ورکس کی سرگرمیوں، فنڈنگ اور سیاسی اثر و رسوخ کی کڑی نگرانی کرنا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ایک قرارداد کثرت رائے سے پاس کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 381 جبکہ مخالفت میں 167 ووٹ آئے اور 15 اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے متن میں یورپی اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسلامی تنظیموں اور نیٹ ورکس کا سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ یورپ کی جمہوری اقدار، معاشرتی ہم آہنگی اور بنیادی یورپی اصولوں کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتا ہے۔
قرارداد کے ذریعے یورپی یونین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر شفاف مالی امداد، مبہم فنڈنگ اور سیاسی جوڑ توڑ کی نشاندہی کے لیے تمام رکن ممالک میں ایک یکساں جانچ پڑتال کا طریقہ کار وضع کرے۔
اس کے علاوہ یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی گرانٹ یا مالی امداد کی کڑی سراغ رسانی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
قرارداد میں یورپی کونسل پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام این جی اوز اور اداروں کا جائزہ لے جن کا تعلق اخوان المسلمین سے ظاہر ہوتا ہے اور یہ طے کرے کہ آیا ان سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں یا انہیں دہشت گرد فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔






