تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

یورپی پارلیمنٹ میں اسلامی تنظیموں کے نیٹ ورک پر نظر رکھنے کی قرارداد منظور

یورپی پارلیمنٹ

یورپی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد یورپ کے اندر اسلامی تنظیموں اور نیٹ ورکس کی سرگرمیوں، فنڈنگ اور سیاسی اثر و رسوخ کی کڑی نگرانی کرنا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ایک قرارداد کثرت رائے سے پاس کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 381 جبکہ مخالفت میں 167 ووٹ آئے اور 15 اراکین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد کے متن میں یورپی اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسلامی تنظیموں اور نیٹ ورکس کا سیاسی یا سماجی اثر و رسوخ یورپ کی جمہوری اقدار، معاشرتی ہم آہنگی اور بنیادی یورپی اصولوں کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتا ہے۔

قرارداد کے ذریعے یورپی یونین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر شفاف مالی امداد، مبہم فنڈنگ اور سیاسی جوڑ توڑ کی نشاندہی کے لیے تمام رکن ممالک میں ایک یکساں جانچ پڑتال کا طریقہ کار وضع کرے۔

اس کے علاوہ یورپی یونین کی جانب سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی گرانٹ یا مالی امداد کی کڑی سراغ رسانی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

قرارداد میں یورپی کونسل پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ان تمام این جی اوز اور اداروں کا جائزہ لے جن کا تعلق اخوان المسلمین سے ظاہر ہوتا ہے اور یہ طے کرے کہ آیا ان سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ان پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں یا انہیں دہشت گرد فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔