تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

پینٹاگون ایران جنگ کے اخراجات اور ناکامیاں چھپا رہا ہے، سینیٹر کرس مرفی

پینٹاگون

امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے پینٹاگون پر ایران کے خلاف جنگ کی ناکامیوں، اخراجات اور تباہی کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے امریکی محکمہ دفاع پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کی ناکامیوں اور اخراجات کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ انہیں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کرس مرفی نے کہا کہ جو وجہ انہیں بتائی گئی، وہ بلکل من گھڑت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹری حکام نے انہیں کہا کہ وہاں جانا محفوظ نہیں ہے، لیکن انہوں نے دلیل دی کہ وہ اس سے پہلے عراق اور افغانستان میں شدید جنگی کارروائیوں کے دوران بھی امریکی مورچوں کا دورہ کر چکے ہیں۔

سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ یہ حفاظتی تدابیر کا سوال ہی نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ سچائی پر پردہ ڈالنے کا معاملہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں موجود دفاعی حکام نے انہیں امریکی سفارت خانے کے اندر بھی بریفنگ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

کرس مرفی نے بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے انہیں سفارت خانے کو پہنچنے والے نقصان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی، جو انتہائی وسیع تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سفارت خانے پر حملہ رات کے وقت ہوا تھا، اگر یہ حملہ دن کے وقت ہوتا تو متعدد امریکی ہلاک ہو جاتے۔