بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ والے ان کے 10 ہزار سے زائد حامیوں اور طلبا کو حراست میں لے لیا ہے۔
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹوں میں متنازع ہیر پھر کرنے اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے الزام میں ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ترجمان اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں، طلبا تنظیموں، وابستہ نچلی سطح کے گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے 10 ہزار افراد کو ملک بھر میں حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں کاکروچ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان دیپک بالیان بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں پونے شہر کے طلبا کا ایک گروپ بھی شامل ہے، جو تاریخی جنتر منتر پر منصوبہ بند مظاہروں میں شرکت کے لیے نیو دہلی جا رہا تھا، جنہیں ایک بس میں نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
بھارت کے الیکشن کمیشن نے اب تک ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کر دیے ہیں اور لاکھوں افراد اس اخراج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
سال 2024 کے الیکشن میں تقریباً 96 کروڑ 90 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ان تبدیلیوں سے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کرنے والے ووٹرز کو غیر متناسب طور پر ہٹایا گیا ہے، جبکہ مودی کی پارٹی کی حمایت کرنے کا امکان رکھنے والے ووٹرز کو برقرار رکھا یا شامل کیا گیا ہے۔
کمیشن اور حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس نظر ثانی کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد دہرے اور نااہل اندراجات کو ختم کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ اہل ووٹرز رجسٹرڈ رہیں۔






