ایران جنگ کی تاریخی تعیناتی میں 10 ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں رہنے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سان ڈیاگو واپس پہنچ گیا۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر کوروناڈو میں 10 ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں رہنے کے بعد ہزاروں بحری اہلکار سان ڈیاگو بے پر طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے باہر نکلے، جہاں زبردست نعروں، آنسوؤں اور جذباتی معانقوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔
اس واپسی میں ایسے نئے باپ بھی شامل تھے، جو اپنی اس تاریخی تعیناتی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں سے پہلی بار مل رہے تھے۔
یہ ملن ان خاندانوں کے لیے جذبات کا طوفان ثابت ہوا، جنہوں نے بتایا کہ اس تعیناتی کے دوران سپلائی کی قلت اور عملے میں ذہنی صحت کی خرابی کی رپورٹس سننے کے بعد وہ روتے رہے اور ان کی نیندیں اڑ گئیں۔
اس تعیناتی کے دوران ریکارڈ 265 دن مسلسل بغیر کسی وقفے کے سمندر میں گزارے گئے اور اکثر لوگ صرف کبھی کبھار ای میل یا نایاب واٹس ایپ کالز کے ذریعے ہی اپنے اہل خانہ سے رابطہ کر سکتے تھے۔
جہاز کے کمانڈر کیپٹن ڈینیئل کیلا نے کہا کہ زیادہ تر عملہ اپنی پہلی تعیناتی پر تھا اور انہوں نے جن مسائل کا سامنا کیا وہ اتنی طویل تعیناتی کے لیے معمول کے مطابق تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر کسی کو دن میں چار وقت کے کھانے تک رسائی حاصل تھی۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک تیرتا ہوا شہر ہے اور کسی بھی لمحے ٹوائلٹ بند ہو سکتا ہے۔
یو ایس ایس لنکن ایران جنگ کے دوران غیر معمولی طویل تعیناتی برداشت کرنے والا دوسرا طیارہ بردار جہاز ہے، جسے بعد میں صدارتی یونٹ سائٹیشن ملا، جو عام طور پر جنگ میں نمایاں کامیابی کے لیے دیا جاتا ہے۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کا عملہ مئی میں 326 دن کی تعیناتی سے واپس آیا تھا، جو پچھلے 50 سالوں میں کسی طیارہ بردار جہاز کی سب سے طویل تعیناتی تھی اور ویتنام جنگ کے بعد کے دور کا ایک ریکارڈ تھا۔ لنکن کی 322 دن کی تعیناتی اس سے تھوڑی ہی کم تھی۔
بحریہ کا کہنا ہے کہ کوروناڈو کے نیول بیس پر اترنے والے لوگوں میں 64 ایسے باپ شامل تھے، جو پہلی بار اپنے بچوں سے مل رہے تھے۔ ایئر ونگ کو ملا کر 122 نئے باپ موجود تھے۔
نیول حکام کا کہنا ہے کہ جہاز میں خوراک کی مناسب سپلائی برقرار رکھی گئی لیکن چونکہ جنگی کارروائیوں نے دوبارہ سپلائی کے مواقع کو محدود کر دیا تھا، اس لیے کچھ عرصے کے لیے کھانے میں کمی کی گئی۔
سمندر میں 10 ماہ سے زیادہ رہنے کے بعد لنکن کے عملے کو مشرق وسطیٰ سے واپسی کے راستے میں گزشتہ ماہ کے شروع میں تھائی لینڈ میں قیام کا موقع ملا تھا۔






