امریکہ میں غیر ملکی بھرتیوں کے طریقۂ کار پر تحقیقات کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ کے لیے پرم پروگرام معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری تحقیقات کی روشنی میں مائیکروسافٹ کے لیے پرم پروگرام کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد مائیکروسافٹ ایچ ون بی ویزا کے حامل غیر ملکی ورکرز کے لیے امریکہ میں مستقل رہائش (گرین کارڈ) کی درخواستیں جمع نہیں کروا سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ٹیکنالوجی ادارے ملک میں ترقی کریں اور سرمایہ کاری کریں، لیکن انہیں غیر ملکیوں کے بجائے امریکی شہریوں کو نوکریاں دینی ہوں گی اور امریکی ملازمین کو نکال کر غیر ملکی ورکرز رکھنا بلکل قبول نہیں کیا جائے گا۔
دوسری طرف امریکی وزیر محنت نے بھارت کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ٹاٹا، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل کی نئی اور زیر التوا درخواستیں بھی روک دی ہیں، جبکہ ایڈوب اور 9 بڑی امریکی جامعات بشمول ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ کے غیر ملکی تبادلہ پروگرامز کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اسی دوران بھارت میں اسٹارلنک کی منظوری میں تاخیر پر ایلون مسک نے سخت سوالات اٹھا دیے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ بھارت میں مواصلاتی منڈی پر اجارہ داری بچانے کے لیے بااثر شخصیات رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مکیش امبانی ہی بھارت کے اصل فیصلہ ساز ہیں؟ اس پر اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے ایلون مسک کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ نے دوسرے شخص کو نہیں دیکھا، جس پر ایلون مسک نے راہول گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔






