تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ایران پر بڑے امریکی حملے کی تیاریاں؟ اسرائیل کو جوابی کارروائی کا خوف، انتخابات متاثر ہونے کا خدشہ

انتخابات

واشنگٹن، تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے خلاف ایک اور بڑے امریکی فوجی حملے کی تیاریوں سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوجی قیادت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں اسرائیل کو ایرانی جوابی حملوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 سے منسوب رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے دو روز قبل اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کو آگاہ کیا کہ وائٹ ہاؤس نے آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے پیش نظر تیاریوں کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تاہم امریکا کی جانب سے اس مبینہ بریفنگ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران پر کسی نئے حملے کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔

امریکی حملے کا امکان، اسرائیل کو اپنے ہی انتخابات کی فکر

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام سے بریفنگ حاصل کرنے کے بعد ایال ضمیر نے اسرائیلی سیاسی قیادت کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف نئی جنگ 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے انعقاد کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس خدشے کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی ہے۔

اگر امریکا نے ایران کے خلاف وسیع فوجی حملہ کیا تو اسرائیل کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس سے شہری زندگی اور انتخابی انتظامات متاثر ہوسکتے ہیں۔

ایران کے خلاف کارروائی، نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑسکتے ہیں

ایران اور امریکا کے درمیان نئی فوجی کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود رہنے کی ضمانت نہیں۔

خلیجی ممالک، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیاں بھی کسی بڑی جنگ سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

خصوصاً آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کی صورت میں تیل کی عالمی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایران ماضی میں اپنے خلاف حملوں کے جواب میں کارروائی کرنے کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم کسی نئی جنگ میں اس کے ممکنہ ردعمل کی نوعیت اور شدت کا پیشگی تعین نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیلی قیادت کو کس بات کی تشویش ہے؟

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے بارے میں اسرائیلی فوجی سربراہ نے اپنی ہی سیاسی قیادت کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا۔

ایال ضمیر سے منسوب انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی فوجی کارروائی اسرائیل کے داخلی معاملات، شہری سلامتی اور انتخابی عمل کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

اسرائیلی حکام کی تشویش سے متعلق یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئی ہیں جب خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور مستقبل کی کارروائیوں پر مسلسل بحث جاری ہے۔

ٹرمپ کے تازہ بیان سے صورتحال مزید پیچیدہ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا۔

یہ بیان اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی ممکنہ فوجی تیاریوں کی اطلاعات کے ساتھ ایک اہم تضاد پیدا کرتا ہے۔

تاہم فوجی منصوبہ بندی اور حملے کا حتمی سیاسی فیصلہ الگ مراحل ہیں۔ اس لیے ممکنہ کارروائی کی تیاریوں کو جنگ شروع ہونے کا اعلان نہیں سمجھا جاسکتا۔

ایران پر حملے سے کیا امریکا اپنے مقاصد حاصل کرپائے گا؟

ایران کا وسیع جغرافیہ، فوجی تنصیبات اور مختلف علاقوں میں موجود دفاعی صلاحیتیں کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

فضائی حملوں سے مخصوص اہداف کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن ان کے ذریعے مستقل سیاسی نتائج حاصل ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس جوابی حملوں، مزید فوجی کارروائیوں اور خطے میں کشیدگی پھیلنے سے جنگ کی مدت اور انسانی و معاشی نقصان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

خطے کے لیے اصل خطرہ کیا ہے؟

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی نئی کارروائی کا اثر صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہ سکتا۔

ممکنہ جنگ سے عام شہریوں کی سلامتی، عالمی توانائی کی فراہمی اور مشرقِ وسطیٰ کے معاشی استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی مبینہ امریکی بریفنگ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ ایران پر نئے حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ کہاں تک پھیل سکتا ہے، اور کیا اس کے نتائج پر قابو پانا ممکن ہوگا؟