تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

ٹرمپ کے ایک اعلان سے تیل کی قیمتوں میں کمی، مگر ایران جنگ کا خطرہ ختم نہ ہوسکا

ٹرمپ کے اعلان سے تیل کی قیمتوں میں کمی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نئے حملے نہ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی دیکھی گئی، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات کے باعث قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔

نو اکتوبر کو کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوکر 103 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی، جبکہ بعض اوقات یہ سطح اس سے نیچے بھی رہی۔ اس سے ایک روز قبل ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق خدشات کے باعث برینٹ کی قیمت میں تقریباً چار فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے اعلان نے عالمی منڈی کو کیسے متاثر کیا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا۔ ان کے اس بیان اور ایران کے ساتھ بات چیت کو مثبت قرار دینے کے بعد فوری فوجی تصادم کے خدشات کسی حد تک کم ہوئے، جس کا اثر تیل کی قیمتوں پر بھی پڑا۔

تاہم اس اعلان سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے برقرار رہنے کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورت حال بدستور موجود ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی تیل کی فراہمی کے لیے خطرہ

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا میں استعمال ہونے والے تیل اور دیگر مائع ایندھن کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر مقدار اس اہم بحری راستے سے گزرتی تھی۔

بحری جہازوں کو لاحق خطرات، نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات نے عالمی توانائی کی منڈی میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ احمر اور باب المندب کے راستے کو لاحق خطرات بھی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق اپنی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔

تاہم مذاکرات سے متعلق اطلاعات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کسی جامع اور پائیدار معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

تیل کی قیمت دوبارہ کیوں بڑھ گئی؟

نو اکتوبر کو کاروبار کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 104.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق خلیج میکسیکو میں سمندری طوفان کے باعث امریکی تیل کی پیداوار متاثر ہونے کے خدشات بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بنے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں کا انحصار صرف امریکا اور ایران کے بیانات پر نہیں بلکہ پیداوار، طلب، ترسیل اور موسم سے متعلق عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ کسی اہم پیداواری علاقے میں رکاوٹ عالمی منڈی میں قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جاسکتی ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی ایندھن کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اس سے درآمدی بل، زرمبادلہ کی ضروریات اور مہنگائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

تاہم عالمی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا اثر مقامی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر فوری طور پر یکساں انداز میں مرتب نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار شرحِ مبادلہ، ٹیکسوں، سرکاری لیوی اور قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار پر بھی ہوتا ہے۔

عالمی منڈی میں حالیہ اتار چڑھاؤ سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا اعلان تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی کا باعث تو بن سکتا ہے، لیکن ایران جنگ، آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار رہنے تک قیمتوں میں غیر یقینی صورت حال ختم ہونا مشکل ہے۔