واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی غیر معمولی ترسیل کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کے مطابق ایک ہی دن میں 2 کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل اس اہم بحری راستے سے گزارا گیا، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے تیل کی اتنی بڑی مقدار گزری جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ تاہم ان کے اس بیان کی آزاد بحری نگرانی کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کی بندرگاہوں کے لیے بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل برآمدات محدود کرنا اور تہران پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔
دوسری جانب امریکا آبنائے ہرمز سے دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس صورت حال میں ایرانی تیل کی برآمدات محدود کرنے اور عالمی منڈی تک توانائی کی ترسیل برقرار رکھنے کی کوششیں بیک وقت جاری ہیں۔
کیا ایک دن میں اتنا تیل منتقل ہونا ممکن ہوا؟
ٹرمپ کے مطابق ایک دن میں 2 کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، تاہم اس مقدار کی آزادانہ تصدیق کے لیے بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور تیل کی ترسیل کے مستند اعداد و شمار درکار ہیں۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی آمدورفت میں جنگ کے دوران اتار چڑھاؤ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں کسی ایک دن کی غیر معمولی ترسیل کو معمول کی بحالی یا مستقل ریکارڈ قرار دینے سے پہلے اس کے شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ایران سے متعلق مزید امریکی پابندیاں
فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 8 اکتوبر کو ایران سے منسلک مزید 17 جہازوں اور مختلف اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی تیل تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
ایران ان امریکی اقدامات کو معاشی دباؤ کی پالیسی قرار دیتا رہا ہے۔ بحری ناکہ بندی اور اضافی پابندیوں کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران کی تیل برآمدات، جہازوں کی نقل و حرکت اور خریداروں تک رسائی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے۔ اس راستے سے تیل کی آمدورفت میں کمی یا اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
تاہم خام تیل کی قیمتوں کا انحصار صرف آبنائے ہرمز کی صورت حال پر نہیں ہوتا۔ عالمی طلب، پیداوار، متبادل سپلائی راستوں اور خطے میں فوجی کشیدگی سمیت متعدد عوامل قیمتوں کے تعین میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے تازہ بیان نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے حجم پر توجہ بڑھا دی ہے، لیکن ایک دن میں 2 کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل گزرنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اس سطح پر ترسیل کے مسلسل برقرار رہنے کے شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔






