واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، بصورتِ دیگر اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں، لیکن انہیں اس کا اعتراف نہیں ملا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں ٹرمپ سے یہ الفاظ منسوب کیے گئے ہیں کہ ایران یا تو امریکا کے تمام مطالبات تسلیم کرے گا یا پھر اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ تاہم اس مخصوص بیان کی اصل ویڈیو یا سرکاری متن سے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے دورِ صدارت میں مختلف تنازعات کے خاتمے کی کوششوں کو اپنی کامیابی قرار دیتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں اور اس کارکردگی کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا۔
تاہم ان کے اس مؤقف پر اختلاف پایا جاتا ہے، کیونکہ جن تنازعات کو ٹرمپ اپنی سفارتی کامیابیوں میں شمار کرتے ہیں، ان میں سے بعض کے معاملات مکمل طور پر حل نہیں ہوئے یا ان میں کشیدگی برقرار رہی۔
ایران پر دباؤ اور امن انعام کی خواہش
ایران کے خلاف سخت بیانات اور نوبیل امن انعام کے حصول پر ٹرمپ کے اصرار نے ان کی خارجہ پالیسی پر بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ امریکی انتظامیہ ایران پر فوجی اور معاشی دباؤ کو تہران سے مذاکرات میں پیش رفت حاصل کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیتی ہے، جبکہ ایران امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
نوبیل امن انعام کس کو ملا؟
نوبیل امن انعام 2026 کے فاتح کے بارے میں متن میں جنوبی افریقا کی قانون دان اور انسانی حقوق کی کارکن نوی پلّے کا نام دیا گیا ہے، تاہم اس اطلاع کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ کسی بھی خبر میں انعام کے فاتح اور اعلان کی تاریخ شامل کرنے سے پہلے نوبیل کمیٹی کے سرکاری اعلان سے رجوع کرنا چاہیے۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور امن انعام نہ ملنے پر ناراضی کے اظہار نے ایک بار پھر امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے کسی معاہدے کی طرف بڑھیں گے یا دونوں ممالک کے درمیان دباؤ اور کشیدگی مزید بڑھے گی۔






