تہران، 10 اکتوبر 2026: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے تاریخی حوالوں پر مبنی خطاب کے جواب میں امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کو زیر کرنے کی کوشش کرنے والوں کو رومی شہنشاہ ویلیریئن کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔
قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ تاریخ میں ایسی طاقتیں بھی گزری ہیں جو خود کو دنیا کا حاکم سمجھتی تھیں اور قدیم تہذیبوں کو مٹانے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن بالآخر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی اسپیکر نے امریکی وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’جو لوگ سکندر کی میراث کے پیچھے چل رہے ہیں، انہیں ویلیریئن جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تم گھٹنے ٹیکو گے۔‘‘
مارکو روبیو نے یونان میں کیا کہا تھا؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں تاریخی مقام ایکروپولس پر خطاب کرتے ہوئے مغربی تہذیب، قدیم یونان اور مغربی ممالک کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ ان کے خطاب میں مغربی ممالک کی مشترکہ تاریخ اور اقدار کے تحفظ کا موضوع نمایاں رہا۔
قالیباف نے اس خطاب کے جواب میں ایران کی قدیم تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ بیرونی طاقتوں کی بالادستی مستقل نہیں رہتی اور ایران کو دباؤ کے ذریعے زیر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
ویلیریئن کون تھا؟
ویلیریئن تیسری صدی عیسوی میں رومی سلطنت کا شہنشاہ تھا۔ سن 260 عیسوی میں ساسانی بادشاہ شاپور اول کی افواج نے رومی فوج کو شکست دی اور ویلیریئن کو قیدی بنا لیا۔ یہ واقعہ رومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ رومی سلطنت کا ایک شہنشاہ دشمن حکمران کی قید میں چلا گیا تھا۔
قدیم ایرانی روایات میں اس واقعے کو ساسانی سلطنت کی بڑی فوجی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم ویلیریئن کی قید کے بعد اس کے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق بعض تفصیلات پر مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
سکندرِ اعظم کا حوالہ کیوں دیا گیا؟
سکندرِ اعظم نے چوتھی صدی قبل مسیح میں ہخامنشی فارسی سلطنت کو شکست دے کر اس کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ تاہم اس کی وفات کے بعد اس کی سلطنت مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی، جبکہ بعد کی صدیوں میں ایرانی خطے میں اشکانی اور ساسانی سلطنتیں ابھریں۔
قالیباف کے بیان میں سکندر اور ویلیریئن کے تاریخی حوالوں کے ذریعے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال یا اسے زیر کرنے کی کوششوں کے نتائج ہمیشہ حملہ آوروں کی توقعات کے مطابق نہیں رہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
قالیباف کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اور سفارتی اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی اسپیکر نے تاریخی واقعات کو بنیاد بنا کر امریکی قیادت کو متنبہ کیا، تاہم ان کے بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی یا باقاعدہ جنگی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اس بیان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دینے والے ممالک کو تاریخ کے ان واقعات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جن میں بڑی سلطنتوں کو ایرانی خطے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔






