انقرہ: افغان میڈیا کے مطابق ترکیہ میں نو ماہ کے دوران 29 ہزار 700 سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ یورپ کے بعض ممالک میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کی ملک بدری کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق ترکیہ میں متعلقہ حکام نے نو ماہ کے دوران بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو حراست میں لیا۔ تاہم گرفتاریوں کی درست مدت، قانونی بنیادوں اور ان افراد کے مقدمات کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے ترکیہ کے سرکاری حکام کے اعدادوشمار دیکھنا ضروری ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق فرانس میں بھی ایسے غیر ملکیوں کی ملک بدری کے اقدامات کیے جارہے ہیں جنہیں حکام نے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کے بعض رکن ممالک میں بھی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر غیر ملکی شہریوں کو ملک واپس بھیجنے کی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
مختلف ممالک میں غیر قانونی داخلے، ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام اور دیگر امیگریشن خلاف ورزیوں سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین کے تحت حکام حالات اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق گرفتاری، حراست یا ملک بدری کی کارروائی کرسکتے ہیں۔
تاہم کسی ملک کے شہریوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریوں کو پوری قوم کی مجرمانہ سرگرمیوں کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کسی فرد کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد، منصفانہ قانونی کارروائی اور متعلقہ ملک کے قوانین کی پابندی ضروری ہے۔
افغان شہریوں کی نقل مکانی کے معاملے میں سکیورٹی اور امیگریشن قوانین کے ساتھ انسانی حقوق اور پناہ کے بین الاقوامی اصول بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک بدری کے فیصلوں میں متعلقہ افراد کی قانونی حیثیت اور ان کے انفرادی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
ترکیہ اور یورپ میں امیگریشن پالیسیوں پر بحث کے دوران بنیادی سوال یہ ہے کہ غیر قانونی قیام اور حقیقی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قوانین کس طرح نافذ کیے جائیں، جبکہ بے گناہ افراد اور قانونی تحفظ کے مستحق لوگوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔






