تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
دنیا

آنے والے مہینوں میں کیا خطرناک ہونے والا ہے؟ خوفناک پیشگوئی سامنے آگئی

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین نے ال نینو کی بڑھتی ہوئی شدت پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے مطابق یہ قدرتی موسمیاتی عمل آنے والے مہینوں میں مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ ال نینو دسمبر 2026 کے آس پاس اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ اس کے باعث دنیا کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی کا امکان ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کی 8 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق موجودہ ال نینو 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات مختلف خطوں میں مختلف انداز سے سامنے آسکتے ہیں۔ کہیں شدید گرمی اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ تاہم ان اثرات کی شدت ہر علاقے کے موسمی حالات پر منحصر ہوگی۔

بحرالکاہل کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے

ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ جون 2026 میں یہ فرق تقریباً 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جو اگست میں بڑھ کر 2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگیا۔

رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔ یہ پیشگوئی سمندر کے درجہ حرارت میں معمول کے مقابلے میں فرق سے متعلق ہے، نہ کہ دنیا کے ہر علاقے کے درجہ حرارت میں اتنے اضافے سے۔

اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی تو موجودہ ال نینو 2015 اور 2016 کے دوران ریکارڈ کیے گئے طاقتور واقعے سے بھی زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ اس وقت سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

ال نینو کیا ہے اور یہ موسم کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس میں استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام پر اثر پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کے معمول کے انداز تبدیل ہوسکتے ہیں۔

یہ عمل ہر علاقے میں ایک جیسے اثرات پیدا نہیں کرتا۔ بعض خطوں میں بارشوں کی کمی سے خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔ اس کے اثرات زراعت، پانی کی دستیابی، جنگلات اور مقامی معیشت پر بھی پڑسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ال نینو خود زمین کے موسمیاتی نظام میں نئی حرارت پیدا نہیں کرتا۔ یہ سمندر میں موجود حرارت کے فضا میں منتقل ہونے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سمندروں کا غیر معمولی طور پر گرم ہونا بھی تشویش کی ایک اہم وجہ ہے۔

شدید گرمی، خشک سالی اور سیلاب کا خدشہ

ماہرین کے مطابق ال نینو کی شدت بڑھنے سے آنے والے مہینوں میں دنیا کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ بارشوں کے نظام میں تبدیلی کے باعث بعض مقامات پر خشک سالی اور پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب کچھ علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں سیلابی صورتحال پیدا کرسکتی ہیں۔

موسمی حالات میں ایسی تبدیلیاں فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کی پرورش کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں طویل عرصے تک بارش نہ ہو تو کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی طرح شدید بارشیں فصلوں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

تاہم ال نینو کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں لازماً شدید گرمی، خشک سالی یا سیلاب آئے گا۔ اس کے اثرات کا انحصار مقامی موسم، جغرافیائی حالات اور دیگر موسمیاتی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے ماہرین موسمیاتی پیشگوئیوں اور بروقت انتباہات کو اہم قرار دیتے ہیں۔

ال نینو 2027 تک برقرار رہ سکتا ہے

عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق موجودہ ال نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ موسمیاتی نظام کے اثرات رواں سال کے اختتام کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم اس دوران مختلف علاقوں میں موسم کی شدت اور نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں، کسانوں اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ موسمیاتی خطرات کے لیے پہلے سے تیاری کرنی چاہیے۔ پانی کے ذخائر، زرعی منصوبہ بندی، سیلاب سے بچاؤ اور شدید گرمی کے دوران عوام کی حفاظت کے اقدامات اہم ہوسکتے ہیں۔

موجودہ پیشگوئیوں کے مطابق ال نینو آنے والے مہینوں میں عالمی موسم پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے تازہ موسمیاتی رپورٹس پر نظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ متعلقہ ادارے اور عام شہری بدلتے ہوئے حالات کے مطابق بروقت اقدامات کرسکیں۔