تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی سفارت کاری کو بحرانوں کے حل، مذاکرات کے تسلسل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے مؤثر ذریعہ بنانے پر زور دیتے ہوئے ایران اور آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے نیا فارمیٹ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
پزشکیان نے یہ بات ترکمانستان میں سی آئی ایس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سفارت کاری کو محض اجلاسوں کے انعقاد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی طور پر بحرانوں سے نمٹنے اور مسائل کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایرانی صدر نے مذاکرات جاری رکھنے، کشیدگی میں اضافے کی روک تھام اور علاقائی ممالک کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق سفارتی کوششوں کا مقصد ایسے نتائج حاصل کرنا ہونا چاہیے جو خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کو مضبوط بنائیں۔
پزشکیان نے ایران اور سی آئی ایس کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے لیے ’سی آئی ایس پلس ایران‘ کے نام سے ایک نئے فارمیٹ کی تجویز بھی پیش کی۔ اس تجویز کا مقصد علاقائی روابط کو مزید مؤثر بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع بڑھانا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پزشکیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی صدر حالیہ عرصے میں متعدد بار اس مؤقف کا اظہار کرچکے ہیں کہ علاقائی بحرانوں کا حل مذاکرات اور خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے کی سلامتی کو مستحکم بنانے کے لیے علاقائی ممالک کی مشترکہ کوششیں اہم ہیں۔
پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے تجاویز کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس دوران علاقائی حکام خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمد و رفت برقرار رکھنے کے لیے بھی مشاورت کررہے ہیں۔
ایرانی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران علاقائی تعاون اور سفارتی رابطوں کو بحرانوں سے نمٹنے کے اہم ذرائع کے طور پر پیش کررہا ہے۔ تاہم ’سی آئی ایس پلس ایران‘ کے مجوزہ فارمیٹ کی تفصیلات اور اس پر پیش رفت سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔






