تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایتھنز میں خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے قدیم ایرانی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ تاریخ کو درمیان میں لانے والوں کو اس کے دوبارہ دہرائے جانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق محسن رضائی نے یہ بیان روبیو کی تقریر کے ردعمل میں دیا، جس میں امریکی وزیر خارجہ نے مغربی تہذیب کا ذکر کیا تھا۔ ایرانی حکام نے روبیو کے ایران اور اس کی تہذیب سے متعلق بیانات پر تنقید کی ہے۔
محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ہاتھوں شکست اور ذلت کے بعد ایتھنز جاکر تہذیبوں کی جنگ کا بیانیہ بنانے کے بجائے امریکی حکام کو تاریخ کے اہم واقعات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے ساسانی سلطنت کے بادشاہ شاپور اول اور رومی شہنشاہ والیرین کے تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو سیاسی بحث کا حصہ بنانے والوں کو اس کے ممکنہ اعادے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک سخت سیاسی پیغام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
شاپور اول اور رومی شہنشاہ والیرین کا واقعہ
ساسانی سلطنت قدیم ایران کی ایک طاقتور سلطنت تھی، جو تقریباً 224 عیسوی سے 651 عیسوی تک قائم رہی۔ شاپور اول اس سلطنت کے ابتدائی حکمرانوں میں شامل تھے اور رومی سلطنت کے خلاف اپنی فوجی مہمات کے باعث تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
سنہ 260 عیسوی میں جنگِ ادیسہ کے دوران ساسانی فوج نے رومی شہنشاہ والیرین کو گرفتار کرلیا تھا۔ یہ واقعہ رومی سلطنت کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ والیرین ان چند رومی شہنشاہوں میں شامل تھے جو دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوئے۔
محسن رضائی نے اسی تاریخی واقعے کا حوالہ دے کر امریکی قیادت کو پیغام دیا۔ ان کے بیان میں ماضی کی فوجی کامیابیوں کو موجودہ سیاسی اور سفارتی کشیدگی کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کے دوران دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ رضائی کے تازہ بیان میں تاریخی حوالہ استعمال کرتے ہوئے واشنگٹن کے مؤقف پر تنقید کی گئی، تاہم ان کے بیان کو موجودہ حالات میں کسی مخصوص فوجی کارروائی کے اعلان کے بجائے سیاسی ردعمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
محسن رضائی کے بیان نے ایران کی جانب سے تاریخی واقعات کو موجودہ سیاسی بیانیے میں استعمال کرنے کے انداز کو نمایاں کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت بھی برقرار ہے۔






